بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مدینہ سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں مدینہ سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1609 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ: كَانَ مِنْ آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ قَالَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، لَا يَبْقَيَنَّ دِينَانِ بِأَرْضِ الْعَرَبِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخری کلام یہ فرمایا: اللہ جل جلالہُ تباہ کرے یہود اور نصاریٰ کو، انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنایا۔ آگاہ رہو عرب میں دو دین نہ رہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1609]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11856، 18818، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2205، دلائل النبوة للبيهقي برقم: 204/7، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9987، 19368، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5960
شیخ سلیم ہلالی نے اس روایت کو صحیح لغیرہ کہا ہے، کیونکہ اس روایت کے متعدد شواہد موجود ہیں جنہیں علامہ الابانی ؒ نے تحذیر المساجد میں ص 11- 23 میں جمع کیا ہے۔، فواد عبدالباقي نمبر: 45 - كِتَابُ الْجَامِعِ-ح: 17»
حدیث نمبر: 1610 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جزیرۂ عرب میں دو دین نہ رہیں۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11743، 18819، والبزار فى «مسنده» برقم: 7786، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7208، 9984، 9990، 14468، 19359، 19367، 19369
شیخ سلیم ہلالی نے اس روایت کو صحیح لغیرہ کہا ہے کیونکہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی روایت حسن سند کے ساتھ مروی ہے جو اس کی شاہد ہے: دیکھئے أحمد " 274/6، طبرانی فی المعجم الأوسط: 1066۔ سیرۃ ابن ھشام، نصب «الراية» : 454/3۔، فواد عبدالباقي نمبر: 45 - كِتَابُ الْجَامِعِ-ح: 18»