بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مدینہ کی وباء کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں مدینہ کی وباء کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1606 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَبِلَالٌ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى، يَقُولُ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ، فَيَقُولُ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ؟ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجِنَّةٍ؟ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ میں آئے تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کو بخار آیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس گئیں اور کہا: اے میرے باپ! کیا حال ہے؟ اے بلال! کیا حال ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار آتا تو وہ ایک شعر پڑھتے، جس کا ترجمہ یہ ہے: ہر آدمی صبح کرتا ہے اپنے گھر میں، اور موت اس سے نزدیک ہوتی ہے اس کے جوتی کے تسمے سے۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو اپنی آواز نکالتے اور پکار کر کہتے: کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات پھر مکّہ کی وادی میں رہوں گا، اور میرے گرد اذخر اور جلیل ہوں گی (اذخر اور جلیل دونوں گھاس ہیں مکّہ کی)، اور کبھی میں پھر اتروں گا مجنہ کے پانی پر (مجنہ ایک جگہ ہے کئی میل پر مکّہ سے، وہاں زمانۂ جاہلیت میں بازار تھے)، اور کبھی پھر دکھلائی دیں گے مجھے شامہ طفیل (دو پہاڑ ہیں مکّہ سے تیس میل پر، یا دو چشمے ہیں)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ باتیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آکر بیان کیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے پروردگار! محبت ڈال دے ہمارے دلوں میں مدینہ کی جتنی محبت تھی مکّہ کی یا اس سے بھی زیادہ، اور صحت اور تندرستی کر دے مدینہ میں، اور برکت دے اس کے صاع اور مد میں، اور دور کر دے بخار وہاں کا، اور بھیج دے اس بخار کو جحفہ میں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1889، 3926، 5654، 5677، 6372، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1376، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3724، 5600، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4257، 4258، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6690، وأحمد فى «مسنده» برقم: 26771، والحميدي فى «مسنده» برقم: 225، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26562، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1303، فواد عبدالباقي نمبر: 45 - كِتَابُ الْجَامِعِ-ح: 14»
حدیث نمبر: 1607 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَنْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَكَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَقُولُ: قَدْ رَأَيْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهْ... إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهْ.
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عامر بن فہیرہ کہتے تھے: میں نے موت کو مرنے سے آگے دیکھ لیا ... نامرد کی موت اوپر سے آتی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه النسائي فى «الكبريٰ» برقم: 4272، 7519، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5600، والحميدي فى «مسنده» برقم: 223، دلائل النبوة للبيھقي: 566/2، فواد عبدالباقي نمبر: 45 - كِتَابُ الْجَامِعِ-ح: 15»
حدیث نمبر: 1608 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے: مدینہ کی راہوں پر فرشتے ہیں، اس میں نہ طاعون آتا ہے، نہ دجال۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1880، 5731، 7133، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1379، 1386، 1387، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3737، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8724، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4254، 4259، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3114، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7233، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17154، 17155، 17156، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 5465، فواد عبدالباقي نمبر: 45 - كِتَابُ الْجَامِعِ-ح: 16»