بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
خمر کی حد کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: اشیائے نو ش کے بیان میں خمر کی حد کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1578 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ، فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلَاءِ، وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ، فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ جَلَدْتُهُ". فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ تَامًّا
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نکلے اور کہا: میں نے فلانے (عبیداللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے) کے منہ سے شراب کی بو پائی، وہ کہتا ہے میں نے طلا (انگور کے شیرے کو اتنا پکایا جائے کہ وہ گاڑھا ہو جائے، مثلاً دو تہائی جل جائے ایک تہائی رہ جائے) پی، اور میں پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں نشہ ہے تو اس کو حد ماروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پوری حد لگائی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 1578]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» قبل الحديث برقم: 5598، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5711، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5198، 6814، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17478،، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3345، 3346، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17028، 17029، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24225، 24226، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4917، 4918، فواد عبدالباقي نمبر: 42 - كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ-ح: 1»
حدیث نمبر: 1579 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَشَارَ فِي الْخَمْرِ يَشْرَبُهَا الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : نَرَى أَنْ " تَجْلِدَهُ ثَمَانِينَ، فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ، وَإِذَا سَكِرَ هَذَى، وَإِذَا هَذَى افْتَرَى" أَوْ كَمَا قَالَ فَجَلَدَ عُمَرُ فِي الْخَمْرِ ثَمَانِينَ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ثور بن زید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے مشورہ لیا خمر کی حد میں (کیونکہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی حد معین نہیں کی تھی)۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے نزدیک اسّی کوڑے لگانے مناسب ہیں کیونکہ آدمی جب شراب پیے گا مست ہو جائے گا، اور جب مست ہو جائے گا واہیات بکے گا، اور جب واہیات بکے گا تو کسی کو گالی بھی دے گا یا ایسا ہی کہا (اور گالی کی حد اسّی (80) کوڑے ہیں)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسّی کوڑے مقرر کیے خمر میں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 1579]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17543، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 5246، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 5270، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13542، فواد عبدالباقي نمبر: 42 - كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ-ح: 2»
حدیث نمبر: 1580 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ حَدِّ الْعَبْدِ فِي الْخَمْرِ، فَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عَلَيْهِ نِصْفَ حَدِّ الْحُرِّ فِي الْخَمْرِ. " وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَدْ جَلَدُوا عَبِيدَهُمْ نِصْفَ حَدِّ الْحُرِّ فِي الْخَمْرِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے پوچھا گیا: غلام اگر شراب پیے تو اس کی کیا حد ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ پہنچا کہ غلام پر آزاد کی آدھی حد ہے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلاموں کو آزاد کی آدھی حد لگائی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 1580]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17548، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13558، 13559، فواد عبدالباقي نمبر: 42 - كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ-ح: 3»
حدیث نمبر: 1581 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ: " مَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا اللَّهُ يُحِبُّ أَنْ يُعْفَى عَنْهُ مَا لَمْ يَكُنْ حَدًّا" . قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: وَالسُّنَّةُ عِنْدَنَا، أَنَّ كُلَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا مُسْكِرًا فَسَكِرَ أَوْ لَمْ يَسْكَرْ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْحَدُّ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے کہ کوئی گناہ نہیں مگر اللہ چاہتا ہے کہ معاف کر دیا جائے سوائے حد کے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو کوئی ایسی شراب پیے جس میں نشہ ہو تو اس کو حد پڑے گی، خواہ اس کو نشہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 1581]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 42 - كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ-ح: 4»