بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قسامت میں پہلے وارثوں سے قسم لینے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: قسامت کے بیان میں قسامت میں پہلے وارثوں سے قسم لینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1538 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، رِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ" قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرِ بِئْرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرْ كَبِّرْ"، يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ"، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ، وَمُحَيِّصَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: " أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟" فَقَالُوا: لَا، قَالَ:" أَفَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ؟" قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ . قَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.
قَالَ مَالِك: الْفَقِيرُ: هُوَ الْبِئْرُ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سہل بن ابی حثمہ کو خبر دی کچھ لوگوں نے، جو اس کی قوم کے معزز لوگ تھے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ فقر اور افلاس کی وجہ سے خیبر کو گئے۔ محیصہ کے پاس ایک شخص آیا اور بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل کو کسی نے قتل کر کے کنوئیں میں یا چشمے میں ڈال دیا ہے۔ محیصہ یہ سن کر خیبر کے یہودیوں کے پاس آئے اور کہا: قسم اللہ کی! تم نے اس کو قتل کیا ہے۔ یہودیوں نے کہا: قسم اللہ کی! ہم نے قتل نہیں کیا اس کو، پھر محیصہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا، بعد اس کے محیصہ اور ان کے بھائی حویصہ جو محیصہ سے بڑے تھے اور عبدالرحمٰن بن سہل (جوعبداللہ بن سہل مقتول کے بھائی تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، محیصہ نے چاہا کہ میں بات کروں کیونکہ وہی خیبر کو گئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بزرگی کی رعایت کر(1)۔ تو حویصہ نے پہلے بیان کیا، پھر محیصہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو یہودی تمہارے قتل کی دیت دیں یا جنگ کریں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہودیوں کو اس بارے میں لکھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ قسم اللہ کی! ہم نے اس کو قتل نہیں کیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حویصہ اور محیصہ اور عبدالرحمٰن سے کہا: تم قسم کھاؤ کہ یہودیوں نے اس کو مارا ہے تو دیت کے حقدار ہو گے۔ انہوں نے کہا: ہم قسم نہ کھائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اچھا اگر یہودی قسم کھالیں کہ ہم نے نہیں مارا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ مسلمان نہیں ہیں(2)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پاس سے دیت ادا کی۔ سہل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پاس سو اونٹ بھیجے ان کے گھروں پر، ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی (وہ مجھے اب تک یاد ہے)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْقَسَامَةِ/حدیث: 1538]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1669، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2384، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6009، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4714،، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5966، 6886، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1638، 4520، 4521، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1422، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2398، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2677، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11553، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16195، والحميدي فى «مسنده» برقم: 407، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18258، فواد عبدالباقي نمبر: 44 - كِتَابُ الْقَسَامَةِ-ح: 1»
حدیث نمبر: 1539 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ
قَالَ يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، فَقَدِمَ مُحَيِّصَةُ فَأَتَى هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ لِمَكَانِهِ مِنْ أَخِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرْ كَبِّرْ"، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ فَذَكَرَا شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَحْضُرْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: فَزَعَمَ بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود خیبر کو گئے، وہاں جا کر اپنے اپنے کاموں کے واسطے جدا ہوگئے۔ عبداللہ بن سہل کو کسی نے مار ڈالا، تو محیصہ اور ان کے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، تو عبدالرحمٰن نے بات کرنی چاہی اپنے بھائی کے مقدمے میں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بزرگی کی رعایت کر۔ تو حویصہ اور محیصہ نے قصہ بیان کیا عبداللہ بن سہل کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم پچاس قسمیں کھاتے ہو (اس بات پر کہ فلاں شخص نے اس کو مار ڈالا ہے)، اگر کھاؤ گے تو خون کا استحقاق (یا قاتل کا استحاق) تمہیں حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! (ہم کیونکر کھائیں) ہم اس وقت موجود نہ تھے، نہ ہم نے دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو یہودی پچاس قسمیں کھا کر بری ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ کافر ہیں، ان کی قسمیں ہم کیونکر قبول کریں گے۔ بشیر بن یسار نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پاس سے دیت ادا کی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْقَسَامَةِ/حدیث: 1539]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1669، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2384، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6009، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4722، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1638، 4520، 4521، 4523، 4524، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1422، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2398، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2677، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11553،، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16198، والحميدي فى «مسنده» برقم: 407، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18258، فواد عبدالباقي نمبر: 44 - كِتَابُ الْقَسَامَةِ-ح: 2»