بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دیت میں میراث کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: دیتوں کے بیان میں دیت میں میراث کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1527 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ ، الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، نَشَدَ النَّاسَ بِمِنًى: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الدِّيَةِ أَنْ يُخْبِرَنِي؟ فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ ، فَقَالَ: كَتَبَ إِلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا" . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ادْخُلِ الْخِبَاءَ حَتَّى آتِيَكَ، فَلَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ، فَقَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ قَتْلُ أَشْيَمَ خَطَأً
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بلایا لوگوں کو منیٰ میں اور کہا کہ جس شخص کو دیت کا مسئلہ معلوم ہو وہ بیان کرے مجھ سے، تو ضحاک بن سفیان کلابی کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی عورت کو میراث دلاؤں اشیم کی دیت میں سے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو خیمے میں جا جب تک میں آؤں، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو ضحاک نے یہی بیان کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کا حکم کیا۔ ابن شہاب نے کہا کہ اشیم خطا سے مارا گیا تھا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْعُقُولِ/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه وأبو داود فى «سننه» برقم: 2927، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1415، 2110، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2642، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 295، 296، 297، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16165، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 6363، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15837، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17764، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 9»
حدیث نمبر: 1528 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عُمَرُ
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يُقَالُ لَهُ قَتَادَةُ حَذَفَ ابْنَهُ بِالسَّيْفِ فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنُزِيَ فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ، فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ :" اعْدُدْ عَلَى مَاءِ قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ بَعِيرٍ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْكَ"، فَلَمَّا قَدِمَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخَذَ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، ثُمّ قَالَ:" أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ؟" قَالَ: هَأَنَذَا، قَالَ: خُذْهَا، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی مدلج میں سے جس کا نام قتادہ تھا، اپنے لڑکے کو تلوار ماری، وہ اس کے پنڈلی میں لگی، خون بند نہ ہوا، آخر مر گیا، تو سراقہ بن جعشم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قدید کے پانی پر (قدید ایک مقام ہے مکہ اور مدینہ کے درمیان، وہاں پانی بھی ہے) ایک سو بیس اونٹ تیار رکھ جب تک میں وہاں آؤں۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں آئے تو اُن اونٹوں میں سے تیس حقے اور تیس جزعے لئے، اور چالیس خلفے (حاملہ اونٹنیاں) لیں، پھر کہا: کہاں ہے مقتول کا بھائی؟ اس نے کہا: کیوں میں موجود ہوں۔ کہا: تو یہ سب اونٹ لے لے، اس واسطے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قاتل کو میراث نہیں ملتی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْعُقُولِ/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث
«مرفوع ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 2646، 2662، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1400، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2646، 2662، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12367، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3273، وأحمد فى «مسنده» برقم: 346، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17782، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 10»
حدیث نمبر: 1529 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ , أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا أَتُغَلَّظُ الدِّيَةُ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ؟ فَقَالَا:" لَا وَلَكِنْ يُزَادُ فِيهَا لِلْحُرْمَةِ"، فَقِيلَ لِسَعِيدٍ: هَلْ" يُزَادُ فِي الْجِرَاحِ كَمَا يُزَادُ فِي النَّفْسِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ماہِ حرام میں (محرم اور رجب اور ذیقعدہ اور ذی الحجہ میں) اگر کوئی قتل کرے تو دیت میں سختی کریں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ بڑھا دیں گے، بوجہ ان مہینوں کی حرمت کے۔ پھر سعید سے پوچھا: اگر کوئی زخمی کرے ان مہینوں میں تو اس کی بھی دیت بڑھا دیں گے، جیسے قتل کی دیت بڑھا دیں گے؟ سعید نے کہا: ہاں۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْعُقُولِ/حدیث: 1529]
تخریج الحدیث
«مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16136، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17696، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 27601، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 10ق»
حدیث نمبر: 1530 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أُحَيْحَةُ بْنُ الْجُلَاحِ كَانَ لَهُ عَمٌّ صَغِيرٌ، هُوَ أَصْغَرُ مِنْ أُحَيْحَةَ، وَكَانَ عِنْدَ أَخْوَالِهِ فَأَخَذَهُ أُحَيْحَةُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَخْوَالُهُ: كُنَّا أَهْلَ ثُمِّهِ وَرُمِّهِ حَتَّى إِذَا اسْتَوَى عَلَى عُمَمِهِ غَلَبَنَا حَقُّ امْرِئٍ فِي عَمِّهِ، قَالَ عُرْوَةُ:" فَلِذَلِكَ لَا يَرِثُ قَاتِلٌ مَنْ قَتَلَ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار کا جس کا نام اُحیحہ بن جلاح تھا، اس سے چھوٹا چچا تھا، وہ اپنی ننہیال میں تھا، اس کو اُحیحہ نے لے کر مار ڈالا، اس کے ننہیال کے لوگوں نے کہا: ہم نے پالا، پرورش کیا، جب جوان ہوا تو اس کا بھتیجا ہم پر غالب آیا، اور اسی نے لے لیا۔ عروہ نے کہا: اسی وجہ سے (اب دینِ اسلام میں) قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوتا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْعُقُولِ/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17799، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32055، 32056، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 11»