بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
لقطے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: گروی رکھنے کے بیان میں لقطے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1459 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا". قَالَ فَضَالَّةُ: الْغَنَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ". قَالَ فَضَالَّةُ: الْإِبِلِ. قَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اور پوچھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لقطہ کو؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پہچان رکھ ظرف اس کا (جس میں لقطہ ہو، خواہ چمڑے میں ہو یا کپڑے میں ہو) اور پہچان رکھ بندھن اس کا، پھر ایک برس تک لوگوں سے اس کا حال کہا کر، اگر اس کا مالک مل جائے تو اس کو دے دے، نہیں تو لے لے۔ پھر اس نے کہا: اگر کوئی بکری بہکی بھٹکی مل جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بکری تیرے کام میں آئے گی، یا تیرے بھائی کے، نہیں تو بھیڑیا کھا جائے گا۔ پھر اس شخص نے کہا: اگر اونٹ بھولا بھٹکا ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اونٹ سے تجھے کیا کام، وہ تو اپنے ساتھ اپنا پانی رکھتا ہے، اور موزے رکھتا ہے، جہاں اس کو پانی مل جاتا ہے پی لیتا ہے، جو درخت ملتا ہے کھالیتا ہے، یہاں تک کہ مالک اس کا اس کو پا لیتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1459]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 91، 2372، 2427، 2428، 2429، 2436، 2438، 5292، 6112، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1722،وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4889، 4890، 4893، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 5738، 5739، 5740، 5786، 5814، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1704،1705، 1706، 1707، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1372، 1373، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2504، 2507، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12175، 12176، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4566، 4569، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17311، والحميدي فى «مسنده» برقم: 835، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18601، 18602، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22063، 37348، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 6066، 6067، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4702، 4728، والطبراني فى «الكبير» برقم: 5237، 5238، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2496، 8380، 8685، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 46»
حدیث نمبر: 1460 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبَاهُ ، عُمَرُ
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ نَزَلَ مَنْزِلَ قَوْمٍ بِطَرِيقِ الشَّامِ فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا، فَذَكَرَهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : " عَرِّفْهَا عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، وَاذْكُرْهَا لِكُلِّ مَنْ يَأْتِي مِنَ الشَّأْمِ سَنَةً، فَإِذَا مَضَتِ السَّنَةُ فَشَأْنَكَ بِهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت معاویہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نے بیان کیا کہ انہوں نے شام کے راستے میں ایک منزل میں جہاں لوگ اتر چکے تھے، ایک تھیلی پائی جس مں اسّی (80) دینار تھے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: مسجدوں کے دروازوں پر لوگوں سے کہا کر، اور جو شخص شام سے آئے اس سے بیان کیا کر ایک برس تک، جب ایک برس گزر جائے پھر تجھ کو اختیار ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث
«موقوف حسن، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12090، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3818، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18619، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22083، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 118/12، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 47»
حدیث نمبر: 1461 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ لُقَطَةً، فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً، فَمَاذَا تَرَى فِيهَا؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ :" عَرِّفْهَا". قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ. قَالَ:" زِدْ". قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " لَا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَهَا، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے لقطہ پایا، اس کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس لے آیا اور پوچھا: کیا کہتے ہو اس باب میں؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: لوگوں سے پوچھ اور بتا۔ اس نے کہا: میں پوچھ چکا اور بتا چکا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اور سہی۔ اس نے کہا: میں پوچھ چکا اور بتا چکا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں کبھی تجھ کو حکم نہ کروں گا اس کے کھانے کا، اگر تو چاہتا تو اس کو نہ لیتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1461]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12063، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3824، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18623، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22061، والشافعي فى «المسنده» برقم: 282/2، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 69/4، 226/7، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 48»