بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ضواری اور حریسہ کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: گروی رکھنے کے بیان میں ضواری اور حریسہ کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1450 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ ، حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت حرام بن سعد محیصہ سے روایت ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا اونٹ ایک باغ میں چلا گیا اور نقصان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم کیا کہ باغ کی حفاظت دن کو باغ والے کے ذمے ہے، البتہ اگر رات کو کسی کا جانور باغ میں جا کر نقصان کرے تو ضمان اس کا جانور کے مالک پر ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1450]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3569، 3570، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6008، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2316، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 5752، 5753، 5754، 5755، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2332، 2332 م، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17383، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18905، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18437، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 37»
حدیث نمبر: 1451 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عُمَرُ
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، أَنّ رَقِيقًا لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَمَرَ عُمَرُ، كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ:" أَرَاكَ تُجِيعُهُمْ"، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ :" وَاللَّهِ لَأُغَرِّمَنَّكَ غُرْمًا يَشُقُّ عَلَيْكَ"، ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِيِّ:" كَمْ ثَمَنُ نَاقَتِكَ؟" فَقَالَ الْمُزَنِيُّ: قَدْ كُنْتُ وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِ مِائَةِ دِرْهَمٍ. فَقَالَ عُمَرُ:" أَعْطِهِ ثَمَانَ مِائَةِ دِرْهَمٍ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب سے روایت ہے کہ غلاموں نے ایک شخص کا اونٹ چرا کر کاٹ ڈالا۔ جب یہ مقدمہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے کثیر بن صلت سے کہا: ان غلاموں کا ہاتھ کاٹ ڈال، پھر حاطب سے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ تو ان غلاموں کو بھوکا رکھتا ہوگا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا حاطب سے: قسم اللہ کی! میں تجھ سے ایسا تاوان دلاؤں گا جو تجھ پر بہت گراں گزرے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اونٹ والے سے پوچھا: تیرا اونٹ کتنے کا ہوگا؟ اس نے کہا: میں نے چار سو درہم کو اسے نہیں بیچا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آٹھ سو درہم اس کے دے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1451]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17287، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 5184، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18977، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 231/7، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 38»