بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قرض میں سود کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں قرض میں سود کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1379 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَبِي الزِّنَادِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عُبَيْدٍ أَبِي صَالِحٍ ، زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى السَّفَّاحِ، أَنَّهُ قَالَ:" بِعْتُ بَزًّا لِي مِنْ أَهْلِ دَارِ نَخْلَةَ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الْكُوفَةِ، فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ أَضَعَ عَنْهُمْ بَعْضَ الثَّمَنِ وَيَنْقُدُونِي، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ: " لَا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَ هَذَا وَلَا تُوكِلَهُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
عبید ابوصالح نے کہا: میں نے اپنا کپڑا دار نخلہ (ایک مقام ہے مکّہ اور طائف کے بیچ میں) والوں کے ہاتھ بیچا ایک وعدے پر، جب میں کوفہ جانے لگا تو ان لوگوں نے کہا: اگر کچھ کم کر دو تو تمہارا روپیہ ہم ابھی دے دیتے ہیں۔ میں نے یہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں تجھے اس روپے کے کھانے اور کھلانے کی اجازت نہیں دیتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1379]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11138، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 14355، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 61/11، 62/11، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 81»
حدیث نمبر: 1380 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ خَلْدَةَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ خَلْدَةَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ " يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَى الرَّجُلِ إِلَى أَجَلٍ، فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُ الْحَقِّ وَيُعَجِّلُهُ الْآخَرُ، فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَنَهَى عَنْهُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا ایک شخص کا: میعادی قرض کسی پر آتا ہو، قرضدار یہ کہے: یہ مجھ سے کچھ کم کر کے نقد لے لے، اور قرض خواہ اس پر راضی ہو جائے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو مکروہ جانا، اور اس سے منع کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1380]
تخریج الحدیث
«موقوف حسن، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10467، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3328، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 61/11، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 82»
حدیث نمبر: 1381 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ الرِّبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَى أَجَلٍ، فَإِذَا حَلَّ الْأَجَلُ، قَالَ: أَتَقْضِي أَمْ تُرْبِي؟ فَإِنْ قَضَى أَخَذَ، وَإِلَّا زَادَهُ فِي حَقِّهِ وَأَخَّرَ عَنْهُ فِي الْأَجَلِ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت زید بن اسلم نے کہا: ایامِ جاہلیت میں سود اس طور پر ہوتا تھا، ایک شخص کا قرض میعادی دوسرے شخص پر آتا ہو، جب میعاد گزر جائے تو قرض خواہ قرضدار سے کہے: یا تم قرض ادا کرو یا سود دو، اگر اس نے قرض ادا کیا تو بہتر ہے، نہیں تو قرض خواہ اپنا قرضہ بڑھا دیتا اور پھر میعاد کراتا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1381]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10467، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3328، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 83»