بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عورت سے نکاح نہ کیا ہو اس کی طلاق پر قسم کھانے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: طلاق کے بیان میں عورت سے نکاح نہ کیا ہو اس کی طلاق پر قسم کھانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1211 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَابْنَ شِهَابٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، كَانُوا يَقُولُونَ: " إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ بِطَلَاقِ الْمَرْأَةِ قَبْلَ أَنْ يَنْكِحَهَا، ثُمَّ أَثِمَ، إِنَّ ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُ إِذَا نَكَحَهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سالم بن عبداللہ اور قاسم بن محمد اور ابن شہاب اور سلیمان بن یسار کہتے ہیں: جو کوئی شخص قسم کھائے کسی عورت کی طلاق پر قبل نکاح کے، پھر بعد نکاح کے وہ قسم توڑے تو طلاق پڑ جائے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11539، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 73»
حدیث نمبر: 1212 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ قَالَ: " كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ، إِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ قَبِيلَةً أَوِ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جو شخص کہے: میں جس عورت سے نکاح کروں اس عورت کو طلاق ہے، اور کسی قبیلہ خاص اور عورت معین کا ذکر نہیں کیا تو یہ کلام لغو ہو جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11470، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 73ق»