بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ساس سے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: نکاح کے بیان میں ساس سے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1095 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، ثُمَّ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا، هَلْ تَحِلُّ لَهُ أُمُّهَا؟ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : " لَا، الْأُمُّ مُبْهَمَةٌ لَيْسَ فِيهَا شَرْطٌ، وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِي الرَّبَائِبِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے نکاح کیا ایک عورت سے، پھر چھوڑ دیا اس کو جماع کرنے سے پہلے، کیا اس کی ماں سے نکاح درست ہے؟ بولے: نہیں، کیونکہ اللہ جل جلالہُ نے فرمایا: تم پر تمہاری بیبیوں کی مائیں حرام ہیں اور اس میں کوئی شرط نہیں لگائی کہ جن بیبیوں سے تم جماع کر چکے ہو، بلکہ شرط ربائب میں لگائی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1095]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13907، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4150، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 22»
حدیث نمبر: 1096 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ اسْتُفْتِيَ وَهُوَ بِالْكُوفَةِ، عَنْ نِكَاحِ الْأُمِّ بَعْدَ الْابْنَةِ، إِذَا لَمْ تَكُنْ الِابْنَةُ مُسَّتْ، فَأَرْخَصَ فِي ذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ كَمَا قَالَ، وَإِنَّمَا الشَّرْطُ فِي الرَّبَائِبِ، فَرَجَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِلَى الْكُوفَةِ، فَلَمْ يَصِلْ إِلَى مَنْزِلِهِ حَتَّى أَتَى الرَّجُلَ الَّذِي أَفْتَاهُ بِذَلِكَ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يُفَارِقَ امْرَأَتَهُ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کوفہ میں: ایک عورت سے نکاح کیا، پھر قبل جماع کے اس کو چھوڑ دیا، اب اس کی ماں سے نکاح کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ درست ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے اور تحقیق کی، معلوم ہوا کہ بی بی کی ماں مطلقاً حرام ہے خواہ بی بی سے صحبت کرے یا نہ کرے، اور صحبت کی قید ربائب میں ہے۔ جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوفہ کو لوٹے، پہلے اس شخص کے مکان پر گئے جس کو مسئلہ بتایا تھا، اس سے کہا: اس عورت کو چھوڑ دے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1096]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13903، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16264، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10811، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 23»