بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مہر کا اور حبا کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: نکاح کے بیان میں مہر کا اور حبا کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1081 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟" فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ، جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، فَقَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا. قَالَ: " الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَالْتَمَسَ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" فَقَالَ: نَعَمْ، مَعِي سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا کہ تحقیق بخشی میں نے اپنی جان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے واسطے، اور کھڑی رہی دیر تک، پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس سے میرا نکاح کر دیجیے اگر اس سے نکاح کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کچھ حاجت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی چیز ہے کہ مہر میں دے اس کو؟ وہ شخص بولا: سوائے اس تہبند کے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اپنا تہبند اس کو دے دے گا تو بغیر تہبند کے بیٹھے گا، کوئی چیز ڈھونڈ لے۔ اس نے کہا: مجھے کچھ نہیں ملتا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ڈھونڈ اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو۔ اس نے ڈھونڈا مگر کچھ نہ ملا، تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تجھے قرآن یاد ہے؟ بولا: ہاں، فلانی فلانی سورۃ یاد ہے، کئی سورتوں کا نام لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے نکاح کردیا اس عورت کا تیرے ساتھ اس قرآن کے عوض میں جو تجھ کو یاد ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2310، 5029، 5030، 5087، 5121، 5126، 5132، 5135، 5141، 5149، 5150، 5871، 7417، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1425، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4093، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3341،، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5289، 5479، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2111، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1114، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2247، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1889، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 641، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13424، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23238، 23296، 23314، والحميدي فى «مسنده» برقم: 957، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7521، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 8»
حدیث نمبر: 1082 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهَا جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ بَرَصٌ، فَمَسَّهَا، فَلَهَا صَدَاقُهَا كَامِلًا، وَذَلِكَ لِزَوْجِهَا غُرْمٌ عَلَى وَلِيِّهَا" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب نے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کو جُنون یا جذام یا برص ہو اور خاوند نہ جان کر اس سے جماع کرے، اس عورت کو خاوند پورا مہرے دے، اور اس کے ولی سے پھیر لے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14222، 14252، والبيهقي فى «سننه الصغير» برقم: 2509، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4250، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 818، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3672، 3673، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10679، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16550، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 9»
حدیث نمبر: 1083 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَةَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأُمُّهَا بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، كَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَمَاتَ، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا، فَابْتَغَتْ أُمُّهَا صَدَاقَهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " لَيْسَ لَهَا صَدَاقٌ، وَلَوْ كَانَ لَهَا صَدَاقٌ لَمْ نُمْسِكْهُ، وَلَمْ نَظْلِمْهَا"، فَأَبَتْ أُمُّهَا أَنْ تَقْبَلَ ذَلِكَ، فَجَعَلُوا بَيْنَهُمْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَضَى أَنْ لَا صَدَاقَ لَهَا، وَلَهَا الْمِيرَاثُ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیٹی جن کی ماں سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے کے نکاح میں آئیں، وہ مر گئے مگر انہوں نے اس سے صحبت نہیں کی، نہ ان کا مہر مقرر ہوا تھا، تو ان کی ماں نے مہر مانگا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مہر کا ان کو استحقاق نہیں، اگر ہوتا تو ہم نہ رکھتے، نہ ظلم کرتے۔ ان کی ماں نے نہ مانا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے کہنے پر رکھا، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کو مہر نہیں ملے گا، البتہ ترکہ ملے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14418، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4308، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 925، 926، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10889، 10890، 10891، 11739، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17106، 17403، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 10»
حدیث نمبر: 1084 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ فِي خِلَافَتِهِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ:" أَنَّ كُلَّ مَا اشْتَرَطَ الْمُنْكِحُ مَنْ كَانَ أَبًا أَوْ غَيْرَهُ، مِنْ حِبَاءٍ أَوْ كَرَامَةٍ، فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ إِنِ ابْتَغَتْهُ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے عامل کو لکھا کہ نکاح کر دینے والا باپ ہو یا کوئی اور، اگر خاوند سے کچھ تحفہ یا ہدیہ لینے کی شرط کرے تو وہ عورت کو ملے گا، اگر طلب کرے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس عورت کا نکاح اس کا باپ کر دے اور اس کے مہر میں کچھ حبا کی شرط کرے، اگر وہ شرط ایسی ہو جس کے عوض میں نکاح ہوا ہے تو وہ حبا اس کی بیٹی کو ملے گا اگر چاہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر خاوند نے قبل صحبت کے بی بی کو چھوڑ دیا تو خاوند حبا میں سے نصف پھیر لےگا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث
«مقطوع ضعيف، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10742، 10745، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16448، 16457، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 11»