بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس جانور کی قربانی مستحب ہے اس کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: قربانیوں کا بیان جس جانور کی قربانی مستحب ہے اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1064 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَ ضَحَّى مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ - قَالَ نَافِعٌ: فَأَمَرَنِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُ كَبْشًا فَحِيلًا أَقْرَنَ، ثُمَّ أَذْبَحَهُ يَوْمَ الْأَضْحَى فِي مُصَلَّى النَّاسِ. قَالَ نَافِعٌ: فَفَعَلْتُ. ثُمَّ حُمِلَ إِلَى عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ حِينَ ذُبِحَ الْكَبْشُ، وَكَانَ مَرِيضًا لَمْ يَشْهَدِ الْعِيدَ مَعَ النَّاسِ، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: لَيْسَ حِلَاقُ الرَّأْسِ بِوَاجِبٍ عَلَى مَنْ ضَحَّى، وَقَدْ فَعَلَهُ ابْنُ عُمَرَ.
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قربانی کی ایک بار مدینہ میں تو مجھ کو حکم کیا ایک بکرا سینگ دار خریدنے کا، اور اس کے ذبح کرنے کا عید الاضحیٰ کے روز عیدگاہ میں، میں نے ایسا ہی کیا، پھر وہ بکرا ذبح کیا ہوا بھیجا گیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس، جب انہوں نے اپنا سر منڈایا، ان دنوں میں وہ بیمار تھے، عید کی نماز کو بھی نہیں آئے۔ کہا نافع نے: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ سر منڈانا قربانی کرنے والے پر واجب نہیں ہے، مگر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یوں ہی سر منڈایا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 1064]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 982، 5552، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1590، 4380، 4381، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4440، 4441، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2811، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3161، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19185، 19186، 19190، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5982، 6512، والبزار فى «مسنده» برقم: 5943، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14077، فواد عبدالباقي نمبر: 23 - كِتَابُ الضَّحَايَا-ح: 3»