بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دریا کے شکار کے بیان میں
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: شکار کے بیان میں دریا کے شکار کے بیان میں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1044 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ،" فَنَهَاهُ عَنْ أَكْلِهِ"، قَالَ نَافِعٌ: ثُمَّ انْقَلَبَ عَبْدُ اللَّهِ، فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ، فَقَرَأَ: أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ سورة المائدة آية 96، قَالَ نَافِعٌ: فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ،" إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِأَكْلِهِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی ہریرہ نے پوچھا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس جانور کے بارے جس کو دریا پھینک دے، تو منع کیا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے کھانے سے، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ گھر گئے اور کلام اللہ کو منگوایا اور پڑھا اس آیت کو: حلال کیا گیا واسطے تمہارے شکار دریا کا اور طعام دریا کا۔ نافع نے کہا: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ کو بھیجا حضرت عبدالرحمٰن بن ابی ہریرہ کے پاس یہ کہنے کو کہ اس جانور کا کھانا درست ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصَّيْدِ/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18986، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8669، فواد عبدالباقي نمبر: 25 - كِتَابُ الصَّيْدِ-ح: 9»
حدیث نمبر: 1045 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، سَعْدٍ الْجَارِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ سَعْدٍ الْجَارِيِّ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْحِيتَانِ يَقْتُلُ بَعْضُهَا بَعْضًا، أَوْ تَمُوتُ صَرَدًا، فَقَالَ:" لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ"، قَالَ سَعْدٌ: ثُمَّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سعد الجاری مولیٰ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پوچھا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے: جو مچھلیاں ان کو مچھلیاں مار ڈالیں یا سردی سے مر جائیں؟ انہوں نے کہا: ان کا کھانا درست ہے، پھر میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا، انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصَّيْدِ/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث
«موقوف حسن، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18987، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20132، 20134، فواد عبدالباقي نمبر: 25 - كِتَابُ الصَّيْدِ-ح: 10»
حدیث نمبر: 1046 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُمَا كَانَا " لَا يَرَيَانِ بِمَا لَفَظَ الْبَحْرُ بَأْسًا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس جانور کا کھانا جس کو دریا پھینک دے درست جانتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصَّيْدِ/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18980، 19891، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8664، 8665، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19755، 19759، فواد عبدالباقي نمبر: 25 - كِتَابُ الصَّيْدِ-ح: 11»
حدیث نمبر: 1047 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْجَارِ قَدِمُوا، فَسَأَلُوا مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ، فَقَالَ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَقَالَ: اذْهَبُوا إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، فَاسْأَلُوهُمَا عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ ائْتُونِي فَأَخْبِرُونِي مَاذَا يَقُولَانِ؟ فَأَتَوْهُمَا، فَسَأَلُوهُمَا، فَقَالَا: لَا بَأْسَ بِهِ . فَأَتَوْا مَرْوَانَ، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: قَدْ قُلْتُ لَكُمْ. قَالَ مَالِك: لَا بَأْسَ بِأَكْلِ الْحِيتَانِ يَصِيدُهَا الْمَجُوسِيُّ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْبَحْرِ:" هُوَ الطَّهُورُ، مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ". قَالَ مَالِكٌ: وَإِذَا أُكِلَ ذَلِكَ مَيْتًا، فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ صَادَهُ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ کچھ لوگ جار کے رہنے والے (جار ایک مقام ہے سمندر کے کنارے پر قریب مدینہ منورہ کے) مروان کے پاس آئے اور پوچھا کہ جس جانور کو دریا پھینک دے اس کا کیا حکم ہے؟ مروان نے کہا: اس کا کھانا درست ہے، اور تم جاؤ سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس اور پوچھو ان سے، پھر مجھ کو آن کر خبر کرو کیا کہتے ہیں، انہوں نے پوچھا ان دونوں سے، دونوں نے کہا: درست ہے۔ ان لوگوں نے پھر آ کر مروان سے کہا، مروان نے کہا: میں تو تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مشرک اگر مچھلیوں کا شکار کرے تو ان کا کھانا درست ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دریا کا پانی پاک ہے، مردہ اس کا حلال ہے۔ جب مردہ دریا کا حلال ہوا تو کوئی شکار کرے تو اس کا کھانا درست ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصَّيْدِ/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18980، 19982، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4727، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20122، 20126، فواد عبدالباقي نمبر: 25 - كِتَابُ الصَّيْدِ-ح: 12»