بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حائضہ کو مکہ میں جانے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حج کے بیان میں حائضہ کو مکہ میں جانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 925 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ:" هَذَا مَكَانُ عُمْرَتِكِ" فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا مِنْهَا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نکلے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجۃ الوداع کے سال میں، تو احرام باندھا ہم نے عمرہ کا، پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے: جس شخص کے ساتھ ہدی ہو تو وہ احرام حج اور عمرہ کا ساتھ باندھے، پھر احرام نہ کھولے یہاں تک کہ دونوں سے فارغ ہو کر۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں آئی مکہ میں حیض کی حالت میں، تو میں نے نہ طواف کیا نہ سعی کی صفا مروہ کی، اور شکایت کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر کھول ڈال اور کنگھی کر اور عمرہ چھوڑ دے اور حج کا احرام باندھ لے۔ میں نے ویسا ہی کیا، جب ہم حج کر چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ کو عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ کر کے تنعیم کو بھیجا۔ میں نے عمرہ ادا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرہ عوض ہے تیرے اس عمرہ کا۔ تو جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہوگئے، پھر حج کے واسطے دوسرا طواف کیا جب لوٹ کر آئے منیٰ سے، اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ کا ایک ساتھ باندھا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 925]
تخریج الحدیث
«فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 222»
حدیث نمبر: 926 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِ ذَلِكَ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسا ہی روایت کیا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 926]
تخریج الحدیث
«فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 222»
حدیث نمبر: 927 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَذْكُرُ، أَنَّهُ " أُرْخِصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا بِاللَّيْلِ"، يَقُولُ: فِي الزَّمَانِ الْأَوَّلِ .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں آئی مکہ میں حالتِ حیض میں، اور میں نے طواف نہ کیا خانۂ کعبہ کا اور نہ سعی کی صفا اور مروہ کی، تو میں نے شکوہ کیا اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو کام حاجی کرتے ہیں وہ تو بھی کر، فقط طواف اور سعی نہ کر جب تک پاک نہ ہو۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 927]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 294، 305، 316، 317، 319، 328، 1518، 1556، 1560، 1561، 1562، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1211، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 963، 2604، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3792، 3795، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2305، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 279، 3616، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1778، 1779، 1781، والترمذي فى «جامعه» برقم: 943، 945، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1888، 1945، 1958، 1959، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 877، 1499، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6357، 24710، والحميدي فى «مسنده» برقم: 203، 204، 205، 207، 208، 209، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 224»