بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حج کے بیان میں مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 869 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ الْمَكِّيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ ضَفَرَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي قَدِمْتُ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ :" لَوْ كُنْتُ مَعَكَ، أَوْ سَأَلْتَنِي لَأَمَرْتُكَ أَنْ تَقْرِنَ"، فَقَالَ الْيَمَانِي: قَدْ كَانَ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ:" خُذْ مَا تَطَايَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَهْدِ"، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ: مَا هَدْيُهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ:" هَدْيُهُ"، فَقَالَتْ لَهُ: مَا هَدْيُهُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: " لَوْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أَنْ أَذْبَحَ شَاةً، لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت صدقہ بن یسار مکی سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس، اور اس نے بٹ لیا تھا اپنے بالوں کو۔ تو کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں صرف عمرہ کا احرام باندھ کر آیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تو میرے ساتھ ہوتا یا مجھ سے پوچھتا تو میں تجھے قرآن کا حکم کرتا۔ اس شخص نے کہا: اب تو ہو چکا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جتنے بال تیرے پریشان ہیں ان کو کتروا ڈال اور ہدی دے۔ ایک عورت نے کہا: کیا ہدی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے نزدیک تو یہ ہے کہ اگر مجھے سِوا بکری کے کچھ نہ ملے تب بھی بکری ذبح کرنا بہتر ہے روزے رکھنے سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 869]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 162»
حدیث نمبر: 870 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: " الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ إِذَا حَلَّتْ لَمْ تَمْتَشِطْ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا، وَإِنْ كَانَ لَهَا هَدْيٌ لَمْ تَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا حَتَّى تَنْحَرَ هَدْيَهَا" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جو عورت احرام باندھے ہو، جب احرام کھولے تو کنگھی نہ کرے جب تک اپنے بالوں کی لٹیں نہ کٹوا دے، اور جو اس کے پاس ہدی ہو تو اپنے بال نہ کتروائے جب تک ہدی نحر نہ کرے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 870]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 163»
حدیث نمبر: 871 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، أَبِي أَسْمَاءَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، فَخَرَجَ مَعَهُ مِنْ الْمَدِينَةِ، فَمَرُّوا عَلَى حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ مَرِيضٌ بِالسُّقْيَا، فَأَقَامَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَتَّى إِذَا خَافَ الْفَوَاتَ، خَرَجَ، وَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، وَهُمَا بِالْمَدِينَةِ، فَقَدِمَا عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ حُسَيْنًا أَشَارَ إِلَى رَأْسِهِ، فَأَمَرَ عَلِيٌّ بِرَأْسِهِ، فَحُلِّقَ، ثُمَّ نَسَكَ عَنْهُ بِالسُّقْيَا، فَنَحَرَ عَنْهُ بَعِيرًا، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: وَكَانَ حُسَيْنٌ خَرَجَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي سَفَرِهِ ذَلِكَ إِلَى مَكَّةَ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ابواسماء سے جو مولیٰ ہیں حضرت عبداللہ بن جعفر کے، روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن جعفر کے ساتھ مدینہ سے نکلے (واسطے حج کے)، تو گزرے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما پر اور وہ بیمار تھے سقیا میں۔ پس ٹھہرے رہے وہاں حضرت عبداللہ بن جعفر یہاں تک کہ جب خوف ہوا حج کے فوت ہو جانے کا، تو نکل کھڑے ہوئے حضرت عبداللہ بن جعفر اور ایک آدمی بھیج دیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس اور ان کی بی بی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس، وہ دونوں مدینہ میں تھے۔ تو آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا مدینہ سے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس۔ انہوں نے اشارہ کیا اپنے سر کی طرف۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حکم کیا، ان کا سر مونڈا گیا سقیا میں، پھر قربانی کی ان کی طرف سے ایک اونٹ کی وہیں سقیا میں۔ کہا حضرت یحییٰ بن سعید نے کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے تھے حج کرنے کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 871]
تخریج الحدیث
«موقوف حسن، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1088، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3259، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4089، 4090، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 165»