بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
محرم جب اپنی بیوی سے صحبت کرے اس کی ہدی کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حج کے بیان میں محرم جب اپنی بیوی سے صحبت کرے اس کی ہدی کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 858 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ أَهْلَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ، فَقَالُوا: " يَنْفُذَانِ يَمْضِيَانِ لِوَجْهِهِمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا، ثُمَّ عَلَيْهِمَا حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْيُ"، قَالَ: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ:" وَإِذَا أَهَلَّا بِالْحَجِّ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ تَفَرَّقَا، حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے جماع کیا اپنی بی بی سے احرام میں، وہ کیا کرے؟ ان سب نے جواب دیا کہ وہ دونوں خاوند اور جورو حج کے ارکان ادا کیے جائیں یہاں تک کہ حج پورا ہو جائے، پھر سال آئندہ ان پر حج اور ہدی لازم ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ پھر سال آئندہ جب حج کریں تو دونوں جدا جدا رہیں یہاں تک کہ حج پورا ہو جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 858]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9779، والبيهقي فى «سننه الصغير» برقم: 1554، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3112، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13249، 13264، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 151»
حدیث نمبر: 859 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ:" مَا تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟" فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا، فَقَالَ سَعِيدٌ:" إِنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَبَعَثَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَى عَامٍ قَابِلٍ"، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ: " لِيَنْفُذَا لِوَجْهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ، فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا. فَإِنْ أَدْرَكَهُمَا حَجٌّ قَابِلٌ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْيُ، وَيُهِلَّانِ مِنْ حَيْثُ أَهَلَّا بِحَجِّهِمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ، وَيَتَفَرَّقَانِ حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، انہوں نے سنا حضرت سعید بن مسیّب سے، وہ کہتے تھے لوگوں سے: تم کیا کہتے ہو اس شخص کے بارے میں جس نے جماع کیا اپنی عورت سے احرام کی حالت میں؟ تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ تب سعید نے کہا کہ ایک شخص نے ایسا ہی کیا تھا تو اس نے مدینہ میں کسی کو بھیجا دریافت کرنے کے لیے۔ بعض لوگوں نے کہا: خاوند اور جورو میں ایک سال تک جدائی کی جائے۔ سعید نے کہا: دونوں حج کرتے چلے جائیں اور اس حج کو پورا کریں جو فاسد کردیا ہے، جب فارغ ہو کر لوٹیں تو دوسرے سال اگر زندہ رہیں تو پھر حج کریں اور ہدی دیں، اور دوسرے حج کا احرام وہیں سے باندھیں جہاں سے پہلے حج کا احرام باندھا تھا، اور مرد عورت جدا رہیں جب تک فراغت ہو حج سے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 859]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، ووأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9789، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 152»