بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حج کے بیان میں ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 845 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَهْدَى هَدْيًا مِنْ الْمَدِينَةِ، قَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، يُقَلِّدُهُ قَبْلَ أَنْ يُشْعِرَهُ. وَذَلِكَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ، وَهُوَ مُوَجَّهٌ لِلْقِبْلَةِ، يُقَلِّدُهُ بِنَعْلَيْنِ، وَيُشْعِرُهُ مِنَ الشِّقِّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ يُسَاقُ مَعَهُ، حَتَّى يُوقَفَ بِهِ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ، ثُمَّ يَدْفَعُ بِهِ مَعَهُمْ إِذَا دَفَعُوا، فَإِذَا قَدِمَ مِنًى غَدَاةَ النَّحْرِ نَحَرَهُ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، أَوْ يُقَصِّرَ، وَكَانَ هُوَ يَنْحَرُ هَدْيَهُ بِيَدِهِ، يَصُفُّهُنَّ قِيَامًا، وَيُوَجِّهُهُنَّ إِلَى الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يَأْكُلُ وَيُطْعِمُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ہدی لے جاتے مدینہ سے تو تقلید کرتے اس کی (تقلید کے معنی گلے میں کچھ لٹکانے کے ہیں)، اور اشعار کرتے تھے اس کا ذوالحلیفہ میں (اشعار ایک طرف سے اونٹ کا کوہان چیر کر خون بہا دینا)، مگر تقلید اشعار سے پہلے کرتے، لیکن دونوں ایک ہی مقام میں کرتے اس طرح پر کہ ہدی کا منہ قبلہ کی طرف کر کے پہلے اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکا دیتے، پھر اشعار کرتے بائیں طرف سے، اور ہدی کو اپنے ساتھ لے جاتے یہاں تک کہ عرفہ کے روز عرفات میں بھی سب لوگوں کے ساتھ رہتے، پھر جب لوگ لوٹتے تو ہدی بھی لوٹ کر آتی، جب منیٰ میں صبح کو یوم النحر میں پہنچتے تو اس کو نحر کرتے قبل حلق یا قصر کے۔ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ہدی کو آپ نحر کرتے۔ ان کو کھڑا کرتے صف باندھ کر، منہ ان کا قبلہ کی طرف کرتے، پھر ان کو نحر کرتے۔ اور ان کا گوشت آپ بھی کھاتے اور دوسروں کا بھی کھلاتے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 845]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10171، 10286، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13373، 13714، 15206، 15728، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 145»
حدیث نمبر: 846 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا طَعَنَ فِي سَنَامِ هَدْيِهِ وَهُوَ يُشْعِرُهُ، قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب اپنی ہدی کے کوہان میں زخم لگاتے شعار کے لیے تو کہتے: اللہ کے نام سے جو بڑا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 846]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10172، 10284، 10286، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13373، 13714، 15206، 15728، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 146»
حدیث نمبر: 847 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: " الْهَدْيُ مَا قُلِّدَ، وَأُشْعِرَ، وَوُقِفَ بِهِ بِعَرَفَةَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ہدی وہ جانور ہے جس کی تقلید اور اشعار ہو، اور کھڑا کیا جائے عرفات میں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 847]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10174، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 146»
حدیث نمبر: 848 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ،" أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُجَلِّلُ بُدْنَهُ الْقُبَاطِيَّ وَالْأَنْمَاطَ وَالْحُلَلَ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْكَعْبَةِ، فَيَكْسُوهَا إِيَّاهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے اونٹوں کو جو ہدی کے ہوتے تھے، مصری کپڑے اور چارجامی اور جوڑے اوڑھاتے تھے (بعد قربانی کے)، ان کپڑوں کو بھیج دیتے تھے کعبہ شریف اوڑھانے کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 848]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10185، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16066، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 146»
حدیث نمبر: 849 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ مَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَصْنَعُ بِجِلَالِ بُدْنِهِ حِينَ كُسِيَتْ الْكَعْبَةُ هَذِهِ الْكِسْوَةَ، قَالَ:" كَانَ يَتَصَدَّقُ بِهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے پوچھا حضرت عبداللہ بن دینار سے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اونٹ کی جھول کو کیا کرتے تھے جب کعبہ شریف کا غلاف بن گیا تھا؟ انہوں نے کہا: صدقہ میں دے دیتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 849]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10186، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 146»
حدیث نمبر: 850 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: " فِي الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ الثَّنِيُّ فَمَا فَوْقَهُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: قربانی کے لیے پانچ برس یا زیادہ کا اونٹ ہونا چاہیے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 850]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10154، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 147»
حدیث نمبر: 851 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ لَا يَشُقُّ جِلَالَ بُدْنِهِ، وَلَا يُجَلِّلُهَا، حَتَّى يَغْدُوَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے اونٹوں کے جھول نہیں پھاڑتے تھے اور نہ جھول پہناتے تھے یہاں تک کہ منیٰ سے جاتے عرفہ کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 851]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10187، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 147»
حدیث نمبر: 852 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِبَنِيهِ:" يَا بَنِيَّ، لَا يُهْدِيَنَّ أَحَدُكُمْ مِنَ الْبُدْنِ شَيْئًا، يَسْتَحْيِي، أَنْ يُهْدِيَهُ لِكَرِيمِهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَكْرَمُ الْكُرَمَاءِ، وَأَحَقُّ مَنِ اخْتِيرَ لَهُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر اپنے بیٹوں سے کہتے تھے: اے میرے بیٹو! اللہ کے لیے تم میں سے کوئی ایسا اونٹ نہ دے جو اپنے دوست کو دیتے ہوئے شرماتے، اس لیے کہ اللہ جل جلالہُ سب کریموں سے کریم ہے اور زیادہ حقدار ہے اس امر کا کہ اس کے واسطے چیز چن کر دی جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 852]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8158، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 147»