بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سعی کی مختلف احادیث کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حج کے بیان میں سعی کی مختلف احادیث کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 829 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ، أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 فَمَا عَلَى الرَّجُلِ شَيْءٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " كَلَّا لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ، أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ، أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر نے کہا کہ میں نے پوچھا اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے: دیکھو اللہ جل جلالہُ فرماتا ہے: بے شک صفا اور مروہ اللہ پاک کی نشانیوں میں سے ہیں، سو جو حج کرے خانۂ کعبہ کا یا عمرہ کرے تو کچھ گناہ نہیں ہے اس پر سعی کرنے میں درمیان ان دونوں کے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر سعی نہ کرے تب بھی بُرا نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ہرگز ایسا نہیں، اگر جیسا تم سمجھتے ہو ویسا ہوتا (یعنی سعی نہ کرنا بُرا نہ ہوتا) تو اللہ جل جلالہُ یوں فرماتا کہ گناہ ہے اس پر سعی نہ کرنے میں صفا اور مروہ کے درمیان، اور یہ آیت تو انصار کے حق میں اُتری ہے، وہ لوگ حج کیا کرتے تھے منات کے واسطے (منات ایک بت کا نام ہے جس کو عرب لوگ پوجتے تھے قبل اسلام کے) اور منات مقابل قدید کے تھا (قدید ایک قریہ کا نام ہے درمیان میں مکہ اور مدینہ کے، منات اس کے سامنے تھا) وہ لوگ صفا اور مروہ کے بیچ میں سعی کرنا بُرا سمجھتے تھے، جب دینِ اسلام سے مشرف ہوئے تو انہوں نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کو، اس وقت اللہ جل شانہُ نے اُتارا کہ صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، جو شخص حج کرے خانۂ کعبہ کا یا عمرہ کرے تو سعی کرنا گناہ نہیں ہے درمیان میں ان دونوں کے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 829]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1643، 1790، 4495، 4861، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1277، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2766، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3839، 3840، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3087، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2970، 2971، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3946، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1901، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2965، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2986، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9452، 9453، وأحمد فى «مسنده» برقم: 25752، 25935، 26545، والحميدي فى «مسنده» برقم: 221، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4638، 5052، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 129»
حدیث نمبر: 830 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، سَوْدَةَ بِنْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عُرْوَةُ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كَانَتْ عِنْدَ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَخَرَجَتْ تَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ مَاشِيَةً، وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً، فَجَاءَتْ حِينَ انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الْعِشَاءِ، فَلَمْ تَقْضِ طَوَافَهَا حَتَّى نُودِيَ بِالْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، فَقَضَتْ طَوَافَهَا فِيمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ، وَكَانَ عُرْوَةُ إِذَا رَآهُمْ يَطُوفُونَ عَلَى الدَّوَابِّ يَنْهَاهُمْ أَشَدَّ النَّهْيِ. فَيَعْتَلُّونَ بِالْمَرَضِ حَيَاءً مِنْهُ، فَيَقُولُ لَنَا، فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ: " لَقَدْ خَابَ هَؤُلَاءِ وَخَسِرُوا" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ حضرت سودہ بیٹی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی، نکاح میں تھیں حضرت عروہ بن زبیر کے، ایک روز وہ نکلیں سعی کرنے کو صفا اور مروہ کے بیچ میں، حج یا عمرہ میں پیدل، اور وہ ایک موٹی عورت تھیں، تو آئیں سعی کرنے کو جب لوگ فارغ ہوئے عشاء کی نماز سے، اور سعی ان کی پوری نہیں ہوئی تھی کہ اذان ہوگئی صبح کی، پھر انہوں نے پوری کی سعی اپنی اس درمیان میں، اور حضرت عروہ جب لوگوں کو دیکھتے تھے کہ سوار ہو کر سعی کرتے ہیں تو نہایت منع کرتے تھے۔ وہ لوگ بیماری کا حیلہ کرتے تھے حضرت عروہ کی شرم سے۔ تو حضرت عروہ کہتے تھے ہم سے اپنے لوگوں کے آپس میں: ان لوگوں نے نقصان پایا، مراد کو نہ پہنچے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 830]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2992، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13306، 13314، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 130»
حدیث نمبر: 831 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنْ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ مَشَى حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي، سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صفا اور مروہ میں جب آتے تو معمولی چال سے چلتے، جب وادی کے اندر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدم آتے تو ڈوڑ کر چلتے یہاں تک کہ وادی سے نکل جاتے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 831]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1557، 1568، 1570، 1651، 1785، 2505، 4352، 7230، 7367، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1218، 1213، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1677، 1697، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2984، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1785، 1905، والترمذي فى «جامعه» برقم: 862، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1882، 1892، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1008، 1074، 2919، 3074، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 400، 401، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11942، 14332، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1304، 1305، 1306، 1325، 1330، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 131»