بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
احصار کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حج کے بیان میں احصار کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q797 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَنْ مَالِكٍ قَالَ: مَنْ حُبِسَ بِعَدُوٍّ، فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَإِنَّهُ يَحِلُّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، وَيَنْحَرُ هَدْيَهُ، وَيَحْلِقُ رَأْسَهُ حَيْثُ حُبِسَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص کو احصار ہوا دشمن کے باعث سے، اور وہ اس کی وجہ سے بیت اللہ تک نہ جا سکا، تو وہ احرام کھول ڈالے، اور اپنی ہدی کو نحر کرے، اور سر منڈوائے جہاں پر اس کو احصار ہوا ہے، اور قضاء اس پر نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: Q797]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 797 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ. فَنَحَرُوا الْهَدْيَ، وَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ، وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ. وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ الْهَدْيُ، ثُمَّ لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ، وَلَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ، أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا، وَلَا يَعُودُوا لِشَيْءٍ.
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے (جب روکا ان کو کفار نے) تو احرام کھول ڈالا حدیبیہ میں، اور نحر کیا ہدی کا، اور سر منڈوائے اور حلال ہو گئے ہر شے سے قبل طوافِ خانۂ کعبہ، اور قبل پہنچ جانے ہدی کے بیت اللہ کو، پھر ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم کیا ہو کسی کو اپنے اصحاب اور ساتھیوں میں سے دوبارہ قضاء یا اعادہ کرنے کا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 797]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1639، 1640، 1693، 1708، 1806، 1807، 1812، 1813، 4183، 4184، 4185، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1230، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2745، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3998، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2747، 2861، 2935، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3712، 3828، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1935، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8838، 8872، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4566، 4685، والحميدي فى «مسنده» برقم: 695، والطبراني فى «الصغير» برقم: 361، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 98ق»
حدیث نمبر: 798 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ: إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ"، ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ، فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ نَفَذَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا، وَرَأَى ذَلِكَ مُجْزِيًا عَنْهُ وَأَهْدَى
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نکلے مکہ کی طرف عمرہ کی نیت سے جس سال فساد درپیش تھا (یعنی حجاج بن یوسف لڑنے کو آیا تھا سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے جو حاکم تھے مکہ کے) تو کہا: اگر مجھے روکا جائے بیت اللہ جانے سے تو کروں گا جیسا کیا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (جب روکا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کفار نے)، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے احرام باندھا تھا عمرہ کا اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال میں احرام باندھا تھا عمرہ کا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سوچا تو یہ کہا کہ عمرہ اور حج دونوں کا حکم احصار کی حالت میں یکساں ہے۔ پھر متوجہ ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف اور کہا کہ حج اور عمرہ کا حال یکساں ہے۔ میں نے تم کو گواہ کیا کہ میں نے اپنے اوپر حج بھی واجب کر لیا عمرہ کے ساتھ۔ پھر چلے گئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ یہاں تک کہ آئے بیت اللہ میں اور ایک طواف کیا اور اس کو کافی سمجھا اور نحر کیا ہدی کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 798]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1639، 1640، 1693، 1708، 1806، 1807، 1812، 1813، 4183، 4184، 4185، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1230، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2745، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3998، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2747، 2861، 2935، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3712، 3828، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1935، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8838، 8872، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4566، 4685، والحميدي فى «مسنده» برقم: 695، والطبراني فى «الصغير» برقم: 361، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 99»