بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ہدی کے جانور کے گلے میں کچھ لٹکانے سے آدمی محر م نہیں ہو جاتا
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حج کے بیان میں ہدی کے جانور کے گلے میں کچھ لٹکانے سے آدمی محر م نہیں ہو جاتا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 753 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ، حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْيُ، وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيٍ فَاكْتُبِي إِلَيَّ بِأَمْرِكِ أَوْ مُرِي صَاحِبَ الْهَدْيِ، قَالَتْ عَمْرَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ، حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ زیاد بن ابی سفیان نے لکھا اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جو شخص ہدی روانہ کرے تو اس پر حرام ہوگئیں وہ چیزیں جو حرام ہیں محرم پر یہاں تک کی ذبح کی جائے ہدی۔ سو میں نے ایک ہدی تمہارے پاس روانہ کی ہے، تم مجھے لکھ بھیجو اپنا فتویٰ یا جو شخص ہدی لے کر آتا ہے اس کے ہاتھ کہلا بھیجو۔ عمرہ نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جو کہتے ہیں ویسا نہیں ہے، میں نے خود اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے ہار بٹے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے لٹکائی اور اس کو روانہ کیا میرے باپ کے ساتھ، سو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہ ہوئی اُن چیزوں میں سے جن کو حلال کیا تھا اللہ نے ان کے لیے، یہاں تک کہ ذبح ہو گئی ہدی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 753]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1696، 1698، 1699، 1700، 1701، 1702، 1703، 1704، 1705، 2317، 5566، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1321، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2573، 2574، 2608، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4003، 4009، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2777، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1755، 1757، 1758، 1759، والترمذي فى «جامعه» برقم: 908، 909، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1952، 1978، 1979، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3094، 3095، 3096، 3098، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10209، وأحمد فى «مسنده» برقم: 3038، 24654، والحميدي فى «مسنده» برقم: 210، 211، 219، 220، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 51»
حدیث نمبر: 754 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الَّذِي يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ وَيُقِيمُ، هَلْ يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ؟ فَأَخْبَرَتْنِي، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: " لَا يَحْرُمُ إِلَّا مَنْ أَهَلَّ وَلَبَّى"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، انہوں نے پوچھا عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے کہ جو شخص ہدی روانہ کرے مگر خود نہ جائے، کیا اس پر کچھ لازم ہوتا ہے؟ وہ بولیں: میں نے سنا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، کہتی تھیں: محرم نہیں ہوتا مگر جو شخص احرام باندھے اور لبیک کہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 754]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12714، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 52»
حدیث نمبر: 755 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا مُتَجَرِّدًا بِالْعِرَاقِ فَسَأَلَ النَّاسَ عَنْهُ، فَقَالُوا: إِنَّهُ أَمَرَ بِهَدْيِهِ أَنْ يُقَلَّدَ فَلِذَلِكَ تَجَرَّدَ، قَالَ رَبِيعَةُ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: " بِدْعَةٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن عبداللہ نے دیکھا ایک شخص کو عراق میں کپڑے اتارے ہوئے (وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے)، تو پوچھا لوگوں سے اس کا سبب۔ لوگوں نے کہا: اس نے حکم کیا ہے اپنی ہدی کی تقلید کا، سو اس لئے سیے ہوئے کپڑے اتار ڈالے۔ حضرت ربیعہ نے کہا: میں نے ملاقات کی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور یہ قصہ بیان کیا، انہوں نے کہا: قسم کعبہ کے رب کی! یہ عمل بدعت ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 755]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12719، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4197، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 53»