بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
صدقۂ فطر جس پر واجب نہیں اس کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: زکوٰۃ کے بیان میں صدقۂ فطر جس پر واجب نہیں اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 703 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
قَالَ مَالِكٌ: لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ فِي عَبِيدِ عَبِيدِهِ، وَلَا فِي أَجِيرِهِ، وَلَا فِي رَقِيقِ امْرَأَتِهِ، زَكَاةٌ. إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْهُمْ يَخْدِمُهُ، وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ. فَتَجِبُ عَلَيْهِ. قَالَ مَالِكٌ: وَلَيْسَ عَلَيْهِ زَكَاةٌ فِي أَحَدٍ مِنْ رَقِيقِهِ الْكَافِرِ، مَا لَمْ يُسْلِمْ لِتِجَارَةٍ كَانُوا، أَوْ لِغَيْرِ تِجَارَةٍ.
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اپنے غلام کے غلاموں کا اور اپنے نوکر کا اور اپنی جورو کے غلام کا صدقۂ فطر اس شخص پر واجب نہیں ہے، مگر جو اُن میں سے اس کی خدمت کرتا ہو، تو اس کا صدقہ واجب ہوگا۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو غلام کافر ہوں اُن کی طرف سے صدقۂ فطر واجب نہیں ہے جب تک مسلمان نہ ہوں، تجارت کے ہوں یا نہ ہوں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 703]
تخریج الحدیث
«شركة الحروف نمبر: 583، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 56»