بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
زکوٰۃ دے کر پھر اس کو خرید کرنے یا پھیرنے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: زکوٰۃ کے بیان میں زکوٰۃ دے کر پھر اس کو خرید کرنے یا پھیرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 696 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَهُوَ يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكَانَ الرَّجُلُ الَّذِي هُوَ عِنْدَهُ قَدْ أَضَاعَهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت اسلم عدوی سے روایت ہے کہ سنا میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے، کہتے تھے: میں نے ایک شخص کو عمدہ گھوڑا دے دیا اللہ کی راہ میں، مگر اس شخص نے اس کو تباہ کیا تو میں نے قصد کیا پھر اس سے خرید لوں، اور میں یہ سمجھا کہ وہ سستا بیچ ڈالے گا، سو پوچھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مت خرید اس کو اگرچہ وہ ایک درہم کو تجھے دے دے، اس لیے کہ صدقہ دے کر پھر اس کو لینے والا ایسا ہے جیسے کتا قے کر کے پھر اس کو کھا لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 696]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1489، 1490، 2623، 2636، 2775، 2970، 2971، 3002، 3003، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1620، 1621، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5124، 5125، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2616، 2617، 2618، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2408، 2409، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1593، والترمذي فى «جامعه» برقم: 668، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2390، 2392، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7725، وأحمد فى «مسنده» برقم: 168، 264، 287، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 46، والحميدي فى «مسنده» برقم: 15، 16،وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16572، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10604، شركة الحروف نمبر: 576، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 49»
حدیث نمبر: 697 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ" .
قَالَ يَحْيَى: سُئِلَ مَالِك، عَنْ رَجُلٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَوَجَدَهَا مَعَ غَيْرِ الَّذِي تَصَدَّقَ بِهَا عَلَيْهِ تُبَاعُ أَيَشْتَرِيهَا؟، فَقَالَ: تَرْكُهَا أَحَبُّ إِلَيَّ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا دیا اللہ کی راہ میں، پھر قصد کیا اس کے خریدنے کا، تو پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مت خرید اس کو اور نہ پھیر صدقہ کو۔
امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: ایک شخص نے صدقہ دیا، پھر اس کو بکتا ہوا پایا اور کسی شخص کے پاس سوا اس شخص کے جس کو صدقہ دیا تھا، کیا خرید کرے؟ بولے: نہیں، خرید نہ کرنا بہتر ہے میرے نزدیک۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 697]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1489، 1490، 2623، 2636، 2775، 2970، 2971، 3002، 3003، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1621، 1620، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5124، 5125، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2616، 2617، 2618، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2408، 2409، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1593، والترمذي فى «جامعه» برقم: 668، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2390، 2392، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7725، 7726، 7727، 7728، وأحمد فى «مسنده» برقم: 168، 264، والحميدي فى «مسنده» برقم: 15، 16، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16572، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10604، شركة الحروف نمبر: 577، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 50»