بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
پھلوں اور میووں کی زکوٰۃ کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: زکوٰۃ کے بیان میں پھلوں اور میووں کی زکوٰۃ کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 681 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
الثِّقَةِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ الثِّقَةِ عِنْدَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ وَالْبَعْلُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سلیمان بن یسار اور حضرت بسر بن سعید سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بارانی اور زیرِ چشمہ یا تالاب کی زمین میں اور اس کھجور میں جس کو پانی کی حاجت نہ ہو دسواں حصہ زکوٰۃ کا ہے، اور جو زمین پانی سینچ کر تر کی جائے اس میں بیسواں حصہ زکوٰۃ کا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 681]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 639، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1816، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7583، 7584، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4943، شركة الحروف نمبر: 557، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 33»
حدیث نمبر: 682 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يُؤْخَذُ فِي صَدَقَةِ النَّخْلِ الْجُعْرُورُ، وَلَا مُصْرَانُ الْفَارَةِ، وَلَا عَذْقُ ابْنِ حُبَيْقٍ، قَالَ: وَهُوَ يُعَدُّ عَلَى صَاحِبِ الْمَالِ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي الصَّدَقَةِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
ابن شہاب زہری نے کہا کہ کھجور کی زکوٰۃ میں جعرور (ایک قسم کی خراب کھجور ہے جو سوکھنے سے کوڑا ہو جاتی ہے) اور مصران الفارہ اور عذق بن حبیق نہ لی جائیں گی، اور مثال ان کی بکریوں کی سی ہے کہ صاحبِ مال کے مال کے شمار میں سب قسم کی شمار کی جائیں گی، لیکن لی نہ جائیں گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 682]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه الشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 31/2، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2313، شركة الحروف نمبر: 558، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 34»