بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کلام اللہ بے وضو پڑھنے کی اجازت کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: قرآن کے بیان میں کلام اللہ بے وضو پڑھنے کی اجازت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 470 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ فِي قَوْمٍ وَهُمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَسْتَ عَلَى وُضُوءٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: " مَنْ أَفْتَاكَ بِهَذَا أَمُسَيْلِمَةُ؟"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں میں بیٹھے اور لوگ قرآن پڑھ رہے تھے، پس گئے حاجت کو اور پھر آ کر قرآن پڑھنے لگے، ایک شخص نے کہا: آپ کلام اللہ پڑھتے ہیں بغیر وضو کے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھ سے کس نے کہا کہ یہ منع ہے، کیا مسیلمہ نے کہا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْقُرْآنِ/حدیث: 470]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح لغيره، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 424، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 1318، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 1110، 1111، شركة الحروف نمبر: 431، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 2»