ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ سَاقَ بَدَنَةً تَطَوُّعًا، فَعَطِبَتْ فَنَحَرَهَا، ثُمَّ خَلَّى بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهَا، فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهَا، أَوْ أَمَرَ مَنْ يَأْكُلُ مِنْهَا غَرِمَهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب نے کہا: جو شخص ہدی کا اونٹ لے جائے، پھر وہ تلف ہونے لگے اور وہ اس کو نحر کر کے چھوڑ دے کہ لوگ اس میں سے کھائیں، تو اس پر کچھ الزام نہیں ہے، البتہ اگر خود اس میں سے کھائے یا کسی کو کھانے کا حکم دے تو تاوان لازم ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 854]
تخریج الحدیث
«فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 148»