يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ :" أَنَا أُخْبِرُكَ صَلِّ الظُّهْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَكَ، وَالْعَصْرَ إِذَا كَانَ ظِلُّكَ مِثْلَيْكَ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَصَلِّ الصُّبْحَ بِغَبَشٍ يَعْنِي الْغَلَسَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ بن رافع جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بی بی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ہیں، انہوں نے پوچھا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نماز کا وقت، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بتاؤں تجھ کو، نماز پڑھ ظہر کی جب سایہ تیرا تیرے برابر ہو جائے، اور عصر کی جب سایہ تیرا تجھ سے دگنا ہو، اور مغرب کی جب آفتاب ڈوب جائے، اور عشاء کی تہائی رات کی، اور صبح کی اندھیرے منہ۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 8]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 08، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2041، وانظر: والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 503، والترمذي فى «جامعه» برقم: 151، الاوسط لابم المنذر: 376/2، شركة الحروف نمبر: 8، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 9» شیخ سلیم ہلالی نے اس روایت کو موقوف صحیح کہا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اوقاتِ نماز صحیح سند کے ساتھ مرفوعاََ بھی مروی ہیں، دیکھیے سنن النسائی، کتاب المواقیت۔ باب آخر وقت الظہر، حدیث: 503، وانظر جامع الترمذی: 151۔