بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 675 — زکوٰۃ میں لوگوں کو تنگ کرنے کی ممانعت کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: زکوٰۃ کے بیان میں زکوٰۃ میں لوگوں کو تنگ کرنے کی ممانعت کا بیان حدیث 675
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ ، عُمَرُ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مُرَّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِغَنَمٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَرَأَى فِيهَا شَاةً حَافِلًا ذَاتَ ضَرْعٍ عَظِيمٍ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟ فَقَالُوا: شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ عُمَرُ : " مَا أَعْطَى هَذِهِ أَهْلُهَا وَهُمْ طَائِعُونَ، لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ لَا تَأْخُذُوا حَزَرَاتِ الْمُسْلِمِينَ نَكِّبُوا عَنِ الطَّعَامِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بکریاں آئیں زکوٰۃ کی۔ اس میں ایک بکری دیکھی بہت دودھ والی، تو پوچھا آپ نے: یہ بکری کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زکوٰۃ کی بکری ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے مالک نے کبھی اس کو خوشی سے نہ دیا ہوگا۔ لوگوں کو فتنے میں نہ ڈالو، ان کے بہترین اموال نہ لو، اور باز آؤ ان کے رزق چھین لینے سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 675]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7754، والبيهقي فى «سننه الصغير» برقم:1282، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2394، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10011، شركة الحروف نمبر: 553، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 28»
← پچھلی حدیث (674) باب پر واپس اگلی حدیث (676) →