عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ: " إِنِّي لَأُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ" . قَالَ مَالِك: وَإِنَّمَا يُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَتَعَمَّدَ ذَلِكَ حَتَّى يَضَعَ وِتْرَهُ بَعْدَ الْفَجْرِ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں فجر ہوجانے کے بعد وتر پڑھتا ہوں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: بعد فجر ہو جانے کے وہ شخص وتر پڑھے جو سو گیا ہو اور وتر نہ پڑھا ہو، لیکن کسی شخص کو یہ بات درست نہیں کہ وہ قصداً وتر بعد فجر ہو جانے کے پڑھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ/حدیث: 281]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 6795، شركة الحروف نمبر: 263، فواد عبدالباقي نمبر: 7 - كِتَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ-ح: 28»