يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عُمَرُ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَلَقِيَ رَجُلًا لَمْ يَشْهَدِ الْعَصْرَ، فَقَالَ عُمَرُ : " مَا حَبَسَكَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ؟" فَذَكَرَ لَهُ الرَّجُلُ عُذْرًا، فَقَالَ عُمَرُ:" طَفَّفْتَ"
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: وَيُقَالُ لِكُلِّ شَيْءٍ وَفَاءٌ وَتَطْفِيفٌ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کی نماز پڑھ کر لوٹے، ایک شخص سے ملاقات ہوئی جو عصر کی نماز میں نہ تھا، آپ نے پوچھا: کس وجہ سے تم رک گئے جماعت میں آنے سے؟ اس نے کچھ عذر بیان کیا، تب فرمایا آپ نے: «طَفَّفْتَ» ۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: «طَفَّفْتَ» «تَطْفِيْفٔ» سے ہے۔ عرب لوگ کہا کرتے ہیں: «لِكُلِّ شَيْءٍ وَفَاءٌ وَ تَطْفِيْفٌ» ۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 21]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه التاريخ الكبير برقم: 429/8، شركة الحروف نمبر: 19، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 22» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا کہ یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ اس میں انقطاع ہے، یحیٰی بن سعید نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔