وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، قَالَ: بَلَغَنِي: أَنَّ مِسْكِينًا اسْتَطْعَمَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَبَيْنَ يَدَيْهَا عِنَبٌ، فَقَالَتْ لِإِنْسَانٍ: خُذْ حَبَّةً فَأَعْطِهِ إِيَّاهَا، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَعْجَبُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَتَعْجَبُ كَمْ تَرَى فِي هَذِهِ الْحَبَّةِ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ؟!
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ ایک مسکین نے سوال کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اور ان کے سامنے انگور رکھے تھے، انہوں نے ایک آدمی سے کہا: ایک دانہ انگور کا اٹھا کر اس کو دے دے، وہ شخص تعجب سے دیکھنے لگا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک دانہ کئی ذروں کے برابر ہے (اور ایک ذرے کا ثواب بھی ضائع نہ ہوگا)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1840]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 3466، فواد عبدالباقي نمبر: 58 - كِتَابُ الصَّدَقَةِ-ح: 6»