بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 1808 — بری بات چیت کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں بری بات چیت کا بیان حدیث 1808
حدیث نمبر: 1808 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ،" أَنّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ لَقِيَ خِنْزِيرًا بِالطَّرِيقِ، فَقَالَ لَهُ: انْفُذْ بِسَلَامٍ، فَقِيلَ لَهُ: تَقُولُ هَذَا لِخِنْزِيرٍ، فَقَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُعَوِّدَ لِسَانِي الْمَنْطِقَ بِالسُّوءِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے ایک سور (خنزیر) آیا راہ میں، آپ علیہ السلام نے فرمایا: چلا جا سلامتی سے۔ لوگوں نے کہا: آپ سور (خنزیر) سے اس طرح فرماتے ہیں؟ (یعنی اس کو دھتکارتے نہیں؟ سخت سست نہیں کہتے؟ جیسا کہ لوگوں کی عادت ہے)۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری زبان کو بُری بات چیت کی عادت نہ ہو جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1808]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 4»
← پچھلی حدیث (1807) باب پر واپس اگلی حدیث (1809) →