بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 1701 — گوشت کھانے کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں گوشت کھانے کا بیان حدیث 1701
حدیث نمبر: 1701 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عُمَرُ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَدْرَكَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَهُ حِمَالُ لَحْمٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَرِمْنَا إِلَى اللَّحْمِ فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ لَحْمًا، فَقَالَ عُمَرُ : " أَمَا يُرِيدُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَطْوِيَ بَطْنَهُ عَنْ جَارِهِ أَوِ ابْنِ عَمِّهِ، أَيْنَ تَذْهَبُ عَنْكُمْ هَذِهِ الْآيَةُ: أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا سورة الأحقاف آية 20؟"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک بوجھ تھا گوشت کا۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہم کو خواہش ہوئی گوشت کھانے کی تو ایک درہم کا گوشت خریدا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اپنے پیٹ کو مارے اور ہمسائے کو کھلائے، یا چچا کے بیٹے کو کھلائے، کہاں بھلا دیا تم نے اس آیت کو: « ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا﴾ » یعنی: اڑا لیے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگی میں، اور خوب فائدے اٹھائے، تو آج کے دن چکھو ذلت کا عذاب۔ آخر آیت تک۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث
«موقوف حسن لغيره، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 5672، 5673، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3719، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24514، 35612، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 36ق»
← پچھلی حدیث (1700) باب پر واپس اگلی حدیث (1702) →