بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 1661 — جوتی پہننے کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں جوتی پہننے کا بیان حدیث 1661
حدیث نمبر: 1661 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ ، كَعْبِ الْأَحْبَارِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ : أَنّ رَجُلًا نَزَعَ نَعْلَيْهِ، فَقَالَ: " لِمَ خَلَعْتَ نَعْلَيْكَ؟ لَعَلَّكَ تَأَوَّلْتَ هَذِهِ الْآيَةَ: فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى سورة طه آية 12"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ كَعْبٌ لِلرَّجُلِ:" أَتَدْرِي مَا كَانَتْ نَعْلَا مُوسَى؟"
قَالَ مَالِك: لَا أَدْرِي مَا أَجَابَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ كَعْبٌ:" كَانَتَا مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
کعب الاحبار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی جوتی اتاری۔ کعب الاحبار نے کہا: تم نے کیوں جوتیاں اتاریں؟ شاید تم نے اس آیت کو دیکھ کر اتاری ہوں گی، اللہ جل جلالہُ نے موسیٰ علیہ السلام سے جب وہ طور پر جانے لگے، فرمایا: « ﴿فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ﴾ » اتار جوتیاں اپنی، مگر تو جانتا ہے موسیٰ علیہ السلام کی جوتیاں کاہے کی تھیں؟
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ مجھے معلوم نہیں اس شخص نے کیا جواب دیا۔ کعب نے کہا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جوتیاں مردہ گدھے کی کھال کی تھیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1661]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 1734،، فواد عبدالباقي نمبر: 48 - كِتَابُ اللِّبَاسِ-ح: 16»
← پچھلی حدیث (1660) باب پر واپس اگلی حدیث (1662) →