بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 1541 — رجم (سنگسار) کرنے کے بیان میں
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حدوں کے بیان میں رجم (سنگسار) کرنے کے بیان میں حدیث 1541
حدیث نمبر: 1541 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ الْأَخِرَ زَنَى. فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ ذَكَرْتَ هَذَا لِأَحَدٍ غَيْرِي؟ فَقَالَ: لَا. فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: فَتُبْ إِلَى اللَّهِ وَاسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ. فَلَمْ تُقْرِرْهُ نَفْسُهُ حَتَّى أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمْ تُقْرِرْهُ نَفْسُهُ حَتَّى جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ الْأَخِرَ زَنَى. فَقَالَ سَعِيدٌ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا أَكْثَرَ عَلَيْهِ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ: " أَيَشْتَكِي، أَمْ بِهِ جِنَّةٌ؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَحِيحٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟" فَقَالُوا: بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ ایک شخص اسلم کے قبیلے کا (جس کا نام ماعز بن مالک تھا) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نالائق نے (اپنی طرف اشارہ کر کے) زنا کیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے یہ بات اور کسی سے تو بیان نہیں کی؟ بولا: نہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: تو توبہ کر اللہ سے، اور چھپا رہ اللہ کے پردے میں (یعنی کسی سے بیان نہ کر)،کیونکہ اللہ جل جلالہُ توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں کی۔ اس کو تسکین نہ ہوئی، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کہا جیسا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی وہی جواب دیا۔ پھر بھی اس کو تسکین نہ ہوئی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اس نالائق نے زنا کیا، تین بار اس نے کہا اور تینوں بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ جب بہت اس نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: کیا یہ بیمار ہوگیا ہے یا اس کو جنون (پاگل پن) ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ تندرست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ لوگوں نے کہا: ہوا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم کیا اس کو سنگسار کرنے کا، وہ سنگسار کر دیا گیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وله شواهد من حديث جابر بن عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصاري، فأما حديث جابر بن عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصاري، أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5270، 6814، 6815، 6820، 6825، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1691، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4420، 4428، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1429، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1953، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9844، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2361، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3094، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2094، 7177، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13342، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29373، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 2»
← پچھلی حدیث (1540) باب پر واپس اگلی حدیث (1542) →