بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 150 — اذان کے بیان میں
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: نماز کے بیان میں اذان کے بیان میں حدیث 150
أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ النِّدَاءَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اذان ہوتی ہے نماز کے لیے تو شیطان پیٹھ موڑ کر پادتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ نہ سنے اذان کو، پھر جب اذان ہو چکتی ہے چلا آتا ہے، پھر جب تکبیر ہوتی ہے بھاگ جاتا ہے پیٹھ موڑ کر، پھر جب تکبیر ہو چکتی ہے چلا آتا ہے یہاں تک کہ وسوسہ ڈالتا ہے نمازی کے دل میں اور کہتا ہے اس سے خیال کر فلاں چیز کا، خیال کر جس کا خیال نمازی کو اوّل بھی نہ تھا، یہاں تک کہ رہ جاتا ہے نمازی اور خبر نہیں ہوتی اس کو کہ کتنی رکعتیں پڑھیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 150]
تخریج الحدیث
«صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 608، 1222، 1231، 1232، 3285، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 389، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 392، 1020، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 16، 1662، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 669، 1251، 1252، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 595، 596، 1176، وأبو داود فى «سننه» برقم: 516، 1030، والترمذي فى «جامعه» برقم: 397، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1240، 1535، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1216، 1217، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2065، 2066، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7406، 7809، والحميدي فى «مسنده» برقم: 977، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5958، شركة الحروف نمبر: 139، فواد عبدالباقي نمبر: 3 - كِتَابُ الصَّلَاةِ-ح: 6»
← پچھلی حدیث (149) باب پر واپس اگلی حدیث (151) →