بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 1482 — نانی اور دا دی کی میراث کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: ترکے کی تقسیم کے بیان میں نانی اور دا دی کی میراث کا بیان حدیث 1482
حدیث نمبر: 1482 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَجْعَلَ السُّدُسَ لِلَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَمَا إِنَّكَ تَتْرُكُ الَّتِي لَوْ مَاتَتْ وَهُوَ حَيٌّ كَانَ إِيَّاهَا يَرِثُ، " فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ بَيْنَهُمَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ابوبکر بن عبدالرحمٰن حصّہ نہیں دلاتے تھے مگر نانی کو یا دادی کو۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ نانی ماں کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائے گی، البتہ اگر ماں نہ ہو تو اس کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور دادی ماں کے یا باپ کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائے گی، جب ماں باپ نہ ہوں تو اس کو چھٹا حصّہ ملے گا۔ اگر نانی اور دادی دونوں ہوں اور میّت کے ماں باپ جو نانی دادی سے زیادہ قریب ہیں نہ ہوں تو ان میں سے نانی اگر میّت کے ساتھ زیادہ قریب ہوگی تو اسی کو چھٹا حصّہ ملے گا(1)، اور جو دادی زیادہ قریب ہوگی(2) یا دونوں برابر ہوں(3) تو چھٹے میں دونوں شریک ہوں گے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میراث کسی کے واسطے نہیں ہے دادیوں اور نانیوں میں سے، مگر ماں کی ماں کو اگرچہ کتنی ہی دور ہو جائے(1)، ان کے سوا اور نانیوں(2) دادیوں(3) کو میراث (دینا مقرر) نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ترکہ دلایا نانی کو، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا پوچھا، جب ان کو بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نانی کو ترکہ دلایا، انہوں نے دلایا، بعد اس کے دادی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں آئی، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں فرائض کو بڑھا نہیں سکتا، لیکن اگر تو بھی ہو اور نانی بھی ہو تو دونوں چھٹے حصّے کو بانٹ لیں، اور جو کوئی تم میں سے تنہا ہو تو وہ پورا چھٹا لے لے(4)۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب سے دین اسلام شروع ہوا ہے آج تک سوائے ان نانی اور دادی کے اور قسم کی نانی دادی کو کسی نے میراث نہیں دلائی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12345، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 6»
← پچھلی حدیث (1481) باب پر واپس اگلی حدیث (1484) →