بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 1406 — زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں حدیث 1406
حدیث نمبر: 1406 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَكَارَى أَرْضًا، فَلَمْ تَزَلْ فِي يَدَيْهِ بِكِرَاءٍ حَتَّى مَاتَ، قَالَ ابْنُهُ: فَمَا كُنْتُ أُرَاهَا إِلَّا لَنَا مِنْ طُولِ مَا مَكَثَتْ فِي يَدَيْهِ، حَتَّى ذَكَرَهَا لَنَا عِنْدَ مَوْتِهِ " فَأَمَرَنَا بِقَضَاءِ شَيْءٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ كِرَائِهَا ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک زمین کرایہ کو لی، ہمیشہ ان کے پاس رہی مرتے دم تک، ان کے بیٹے نے کہا: ہم اس کو اپنی ملک سمجھتے تھے، اس وجہ سے کہ مدت تک ہمارے پاس رہی، جب سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ مرنے لگے تو انہوں نے کہا: وہ کرایہ کی ہے اور حکم کیا کرایہ ادا کرنے کا جو ان پر باقی تھا، سونے یا چاندی کی قسم سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 1406]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11648، فواد عبدالباقي نمبر: 34 - كِتَابُ كِرَاءِ الْأَرْضِ-ح: 4»
← پچھلی حدیث (1405) باب پر واپس اگلی حدیث (1407) →