ابْنِ شِهَابٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ إِلَى خَيْبَرَ، فَيَخْرُصُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ يَهُودِ خَيْبَرَ، قَالَ: فَجَمَعُوا لَهُ حَلْيًا مِنْ حَلْيِ نِسَائِهِمْ، فَقَالُوا لَهُ: هَذَا لَكَ، وَخَفِّفْ عَنَّا وَتَجَاوَزْ فِي الْقَسْمِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَمِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيَّ، وَمَا ذَاكَ بِحَامِلِي عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، فَأَمَّا مَا عَرَضْتُمْ مِنَ الرَّشْوَةِ، فَإِنَّهَا سُحْتٌ وَإِنَّا لَا نَأْكُلُهَا، فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجتے تھے خبیر کی طرف، وہ پھلوں کا اور زمینوں کا اندازہ کر دیتے تھے، ایک بار یہودیوں نے اپنی عورتوں کا زیور جمع کیا اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو دینے لگے: یہ لے لو مگر ہمارے محصُول میں کمی کر دو۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے یہود! اللہ کی ساری مخلوق میں میں تم کو زیادہ بُرا سمجھتا ہوں، اس پر بھی میں نہیں چاہتا کہ تم پر ظلم کروں، اور جو تم مجھے رشوت دیتے ہو وہ حرام ہے، اس کو ہم لوگ نہیں کھاتے۔ اس وقت یہودی کہنے لگے: اس وجہ سے اب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 1402]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7532، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2318، 2319، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7202، والطبراني فى «الكبير» برقم: 15009، والشافعي فى «الاُم» برقم: 33/2، والشافعي فى «المسنده» برقم: 428/1، فواد عبدالباقي نمبر: 33 - كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ-ح: 2»