بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 1134 — طلاق بتّہ یعنی تین طلاق کے بیان میں
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: طلاق کے بیان میں طلاق بتّہ یعنی تین طلاق کے بیان میں حدیث 1134
حدیث نمبر: 1134 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ لَهُ:" الْبَتَّةُ، مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهَا؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقُلْتُ لَهُ: كَانَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ يَجْعَلُهَا وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : " لَوْ كَانَ الطَّلَاقُ أَلْفًا، مَا أَبْقَتِ الْبَتَّةُ مِنْهَا شَيْئًا، مَنْ قَالَ الْبَتَّةَ، فَقَدْ رَمَى الْغَايَةَ الْقُصْوَى"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا کہ طلاق بتہ میں لوگ کیا کہتے ہیں؟ ابوبکر نے کہا: ابان بن عثمان اس کو ایک طلاق سمجھتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: اگر طلاق ایک ہزار تک درست ہوتی تو بتہ اس میں سے کچھ باقی نہ رکھتا، جس نے بتہ کہا وہ انتہا کو پہنچ گیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1134]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11185، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 1673، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18452، 18453، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 3»
← پچھلی حدیث (1133) باب پر واپس اگلی حدیث (1135) →