أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ : أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ إِلَى رَجُلٍ أُخْتَهُ، فَذَكَرَ أَنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَحْدَثَتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَضَرَبَهُ أَوْ كَادَ يَضْرِبُهُ، ثُمَ قَالَ: " مَا لَكَ وَلِلْخَبَرِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نکاح کا پیغام دیا ایک شخص کی بہن کو، اس نے بیان کیا کہ وہ عورت بدکار ہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی، آپ نے اس شخص کو بلا کر مارا یا مارنے کا قصد کیا، اور کہا کہ تجھے یہ خبر پہنچانے سے کیا غرض تھی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1127]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح لغيره، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 867، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10689، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 53»