267- مالك عن عمه أبى سهيل بن مالك عن أبيه أنه سمع طلحة بن عبيد الله يقول: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم من أهل نجد، ثائر الرأس، يسمع دوي صوته ولا يفقه ما يقول، حتى دنا من رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم، فإذا هو يسأل عن الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”خمس صلوات فى اليوم والليلة“، فقال: هل على غيرهن؟ قال: ”لا، إلا أن تطوع“ قال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”وصيام رمضان“، قال: هل على غيره؟ قال: ”لا، إلا أن تطوع“، قال: وذكر له رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم الزكاة، فقال: هل على غيرها؟ قال: ”لا، إلا أن تطوع“، قال: فأدبر الرجل وهو يقول: والله لا أزيد على هذا ولا أنقص منه، فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”أفلح إن صدق.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجد والوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی آواز کی گنگناہٹ سنائی دیتی لیکن اس کی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی، حتیٰ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب آ گیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کے بارے میں کچھ پوچھ رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں (فرض ہیں)۔“ اس نے کہا: کیا ان (پانچوں) کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اِلا یہ کہ تم اپنی مرضی سے نوافل پڑھو۔“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اور رمضان کے روزے (فرض ہیں)۔“ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی کوئی روزے مجھ پر فرض ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اِلا یہ کہ تم اپنی مرضی سے نفلی روزے رکھو۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زکوٰۃ کا ذکر کیا، اس نے پوچھا: کیا اس (زکوٰۃ) کے علاوہ اور بھی مجھ پر کچھ فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں الا یہ کہ تم اپنی مرضی سے نفلی صدقے دو۔“، پھر وہ آدمی یہ کہتے ہوئے پیٹھ پھیر کر روانہ ہوا: اللہ کی قسم! میں ان پر نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 649]
تخریج الحدیث
«267- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 175/1 ح 425، ك 9 ب 25 ح 94) التمهيد 157/16، 158، الاستذكار: 395، و أخرجه البخاري (56) مسلم (11) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح