بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
صبر و شکر کی اہمیت
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) صبر و شکر کا بیان صبر و شکر کی اہمیت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 615 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
78- وبه: عن أبى سعيد الخدري أن ناسا من الأنصار سألوا رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فأعطاهم ثم سألوه فأعطاهم، ثلاثا، حتى نفد ما عنده، ثم قال: ”ما يكون عندي من خير فلن أدخره عنكم، ومن يستعفف يعفه الله، ومن يستغن يغنه الله، ومن يتصبر يصبره الله. وما أعطي أحد عطاء هو خير وأوسع من الصبر.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تین دفعہ (مال) مانگا تو آپ نے انہیں (تین دفعہ) عطا فرمایا حتی کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا سب ختم ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جو بھی خیر ہو گی (بہترین مال ہو گا) تو میں اسے تم سے (روک کر) ہرگز ذخیرہ نہیں کروں گا (بلکہ تمہیں دے دوں گا) اور جو شخص مانگنے سے بچے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بچائے گا اور جو بےنیازی اختیار کرے گا تو اللہ اسے بےنیاز کر دے گا جو شخص صبر کرے گا تو اللہ اسے صابر و شاکر بنا دے گا اور صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع کوئی چیز (لوگوں کو) عطا نہیں کی گئی ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 615]
تخریج الحدیث
«78- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 997/2 ح 1945، ك 58 ب 2 ح 7) التمهيد 131/10، الاستذكار: 1882، و أخرجه البخاري (1469) ومسلم (1053) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح