بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
چوری کی مذمت
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) حرام و ناجائز امور کا بیان چوری کی مذمت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 586 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
141- مالك عن ثور بن زيد الديلي عن أبى الغيث سالم مولى ابن مطيع عن أبى هريرة قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم عام خيبر فلم نغنم ذهبا ولا ورقا إلا الأموال المتاع والثياب، قال: فأهدى رجل من بني الضبب يقال له: رفاعة بن زيد لرسول الله صلى الله عليه و آله وسلم غلاما أسود يقال له مدعم، فوجه رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم إلى وادي القرى، حتى إذا كنا بوادي القرى بينما مدعم يحط رحل رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم إذ جاءه سهم عائر فأصابه فقتله، فقال الناس: هنيئا له الجنة، فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ”كلا والذي نفسي بيده إن الشملة التى أخذ يوم خيبر من المغانم لم تصبها المقاسم لتشتعل عليه نارا.“ فلما سمع الناس ذلك جاء رجل بشراك أو شراكين على رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”شراك أو شراكان من نار.“ تم الجزء الأول بعون الله وتأييده.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر والے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (جہاد کے لئے) نکلے تو ہمیں مال غنیمت میں اموال (زمینیں) ، اسباب اور کپڑوں کے سوا نہ سونا ملا اور نہ چاندی بنو ضبب (قبیلے) کے ایک آدمی رفاعہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تحفے میں ایک کالا غلام دیا جسے مدعم کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے وادی قریٰ کی طرف بھیجا جب ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری سے مدعم کجاوہ اتار رہا تھا اتنے میں ایک بے نشان تیر آیا تو اسے آ لگا اور وہ فوت ہو گیا لوگوں نے کہا: اسے جنت مبارک ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے خیبر والے دن مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے جو چادر (چوری کر کے) چھپائی ہے وہ آگ بن کر اسے لپٹی ہوئی ہے۔ جب لوگوں نے یہ  بات سنی تو ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک تسمہ یا دو تسمے آگ میں سے ہیں۔  اللہ کی مدد اور تائید سے جزء اول مکمل ہوا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 586]
تخریج الحدیث
«141- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 459/2 ح 1012، ك 21 ب 13 ح 25 وعنده: سهم عائر) التمهيد 3/2، الاستذكار:949، و أخرجه البخاري (6707) و مسلم (115) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح