بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
شکار، جانوروں اور کھیتی باڑی کی حفاظت کے لئے کتا رکھنا جائز ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) حلال و جائز امور کا بیان شکار، جانوروں اور کھیتی باڑی کی حفاظت کے لئے کتا رکھنا جائز ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 581 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
256- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”من اقتنى كلبا ليس بكلب صيد ولا كلب ماشية نقص من أجره كل يوم قيراطان.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی شکاری اور جانوروں کی حفاظت والے کتے کے علاوہ کوئی کتا پالے تو اس کے اجر و ثواب (نیکیوں) میں سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہوتی ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 581]
تخریج الحدیث
«256- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 969/2 ح 1874، ك 54 ب 5 ح 13، نحو المعنيٰ) التمهيد 217/14، الاستذكار:1810، أخرجه البخاري (5482) و مسلم (1574/50) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح