بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کسی قوم پر حملہ کرنے سے پہلے اتمام حجت ضروری ہے . . .
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) جہاد سے متعلق مسائل کسی قوم پر حملہ کرنے سے پہلے اتمام حجت ضروری ہے . . .
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 563 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
149- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم حين خرج إلى خيبر أتاها ليلا وكان إذا أتى قوما بليل لم يغر حتى يصبح. فأصبح، فخرجت يهود بمساحيهم ومكاتلهم، فلما رأوه قالوا: محمد والله محمد والخميس. فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”الله أكبر، خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب خیبر (فتح کرنے) کے لئے (مدینے سے) نکلے تو وہاں رات کے وقت داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی (اسلام دشمن) قوم پر حملہ کرنا چاہتے تو صبح سے پہلے حملہ نہیں کرتے تھے، پھر جب صبح ہوئی تو یہودی اپنی کدالیں اور ٹوکریاں لے کر نکلے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ہیں، اللہ کی قسم! محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور (ان کا) لشکر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، خراب ہوا خیبر، جب ہم کسی قوم کے پاس پہنچتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جنہیں (جہنم اور عذاب سے) ڈرایا گیا ہے۔  [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 563]
تخریج الحدیث
«149- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 468/2، 469 ح 1035، ك 21 ب 19 ح 48، وعنده: لم يفر) التمهيد 215/2، الاستذكار:972، و أخرجه البخاري (2945) من حديث مالك به وصرح حميد الطويل بالسماع عند البخاري (2943)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح