بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کسی عورت کی پیٹ میں بچہ مارا جائے تو اس کی دیت
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) دیت، قصاص اور حد کے مسائل کسی عورت کی پیٹ میں بچہ مارا جائے تو اس کی دیت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 538 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
25- وبه: عن أبى هريرة: أن امرأتين من هذيل رمت إحداهما الأخرى فطرحت جنينا ميتا فقضى فيه رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بغرة عبد أو وليدة.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند (کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ہذیل (قبیلے) کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو مارا تو اس کا مردہ بچہ پیدا ہو گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ایک غلام یا لونڈی (مارنے والی کی طرف سے بدلے اور دیت کے طور پر) دی جائے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 538]
تخریج الحدیث
«25- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 855/2 ح 1658، ك 43 ب 7 ح 5) التمهيد 107/7، الاستذكار: 1586، و أخرجه البخاري (5759) ومسلم (1681) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح