بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تورات وغیرہ میں رجم کا ثبوت
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) دیت، قصاص اور حد کے مسائل تورات وغیرہ میں رجم کا ثبوت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 534 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
245- وبه: أنه قال: إن اليهود جاؤوا إلى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فذكروا له أن رجلا منهم وامرأة زنيا، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ما تجدون فى التوراة فى شأن الرجم؟“ فقالوا: نفضحهم ويجلدون. فقال عبد الله بن سلام: كذبتم، إن فيها الرجم، فأتوا بالتوراة فاتلوها. فنشروها فوضع أحدهم يده على آية الرجم فقرأ ما قبلها وما بعدها، فقال له عبد الله بن سلام: ارفع يدك، فرفع يده فإذا فيها آية الرجم، فقالوا: صدق يا محمد، فيها آية الرجم. فأمر بهما رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فرجما. قال عبد الله بن عمر: فرأيت الرجل يحني على المرأة يقيها الحجارة.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس یہودی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا کہ ان میں سے ایک مرد و عورت نے آپس میں زنا کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہا: تم تورات میں رجم کے بارے میں کیا پاتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: ہم (زانیوں کو) ذلیل و رسوا کرتے ہیں اور انہیں کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے جھوٹ کہا ہے، تورات میں رجم والی آیت موجود ہے، تورات لاؤ اور اسے پڑھو پھر انہوں نے تورات کھولی تو ان میں سے ایک آدمی نے رجم (سنگسار) والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، پھر اس نے آگے پیچھے سے پڑھا تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ اٹھا، پھر اس نے ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم تھی یہودیوں نے کہا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اس نے سچ کہا:، یہاں رجم والی آیت ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا تو انہیں رجم کیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ مرد عورت پر اسے پتھروں سے بچانے کے لئے جھک، جھک جاتا تھا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 534]
تخریج الحدیث
«245- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 819/2 ح 1592، ك 41 ب 1 ح 1) التمهيد 385/14، الاستذكار:1521، و أخرجه البخاري (3635، 6841) ومسلم (1699/27) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح