بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اگر کسی کو گمشدہ چیز ملے تو وہ کیا کرے؟
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) گمشدہ اشیاء کے مسائل اگر کسی کو گمشدہ چیز ملے تو وہ کیا کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 527 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
163- مالك عن ربيعة عن يزيد مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني أنه قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فسأله عن اللقطة، فقال: ”اعرف عفاصها ووكاءها ثم عرفها سنة، فإن جاء صاحبها وإلا فشأنك بها.“ قال: فضالة الغنم؟ قال: لك أو لأخيك أو للذئب. قال: فضالة الإبل؟ قال: ”ما لك ولها، معها سقاؤها وحذاؤها، ترد الماء وتأكل الشجر حتى يلقاها ربها.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور لقطے (گمشدہ چیز) کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی وغیرہ اور اس کے بندھے ہوئے دھاگے کو (اچھی طرح) پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پھر جب اس کا مالک آ جائے تو دے دو ورنہ اسے خود استعمال کر لو۔ اس نے پوچھا: اگر گمشدہ بکری مل جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لئے اور تیرے بھائی کے لئے ہے یا پھر اسے بھیڑیا کھا جائے گا۔ اس نے پوچھا: اگر گمشدہ اونٹ مل جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں تجھے کیا ہے؟ اس کا پانی اور چلنے والے جوتے اس کے پاس ہیں، وہ پانی پئے گا اور درختوں سے کھائے گا حتیٰ کہ اس کا مالک اسے مل جائے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 527]
تخریج الحدیث
«163- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 757/2 ح 1520، ك 36 ب 38 ح 46) التمهيد 106/3، 107، الاستذكار:1449، و أخرجه البخاري (2429) ومسلم (1722) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح