بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تازہ کھجوروں کے بدلے خشک کھجوروں کی بیع ناجائز ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) سود کا بیان تازہ کھجوروں کے بدلے خشک کھجوروں کی بیع ناجائز ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 517 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
380- وعن عبد الله بن يزيد أن زيدا أبا عياش أخبره أنه سأل سعد بن أبى وقاص عن البيضاء بالسلت، فقال له سعد: أيتهما أفضل؟ قال: البيضاء، فنهاه عن ذلك، وقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم سئل عن اشتراء التمر بالرطب فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”أينقص الرطب، إذا يبس؟“ فقالوا: نعم، فنهى عن ذلك.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
زید ابوعیاش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کہ کیا سلت (ایک غلے) کو گیہوں کے بدلے بیچنا جائز ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ان دونوں میں کون سا بہتر ہے؟ انہوں نے کہا: گیہوں، تو انہوں (سعد رضی اللہ عنہ) نے اس سے منع کر دیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تازہ کھجوروں کے بدلے چھوہارے خریدنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کیا تازہ کھجوریں خشک ہونے کے بعد کم ہو جاتی ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس (سودے) سے منع فرما دیا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 517]
تخریج الحدیث
«380- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 264/2، ح 1353، ك 31 ب 12 ح 22) التمهيد 170/19، الاستذكار: 1273، و أخرجه أبوداود (3359) و الترمذي (1225: وقال ”هذا حديث حسن صحيح“) والنسائي (268/7، 269 ح 4549) وابن ماجه (2264) كلهم من حديث من حديث مالك به وصححه ابن الجارود (657) والحاكم (38/2، 39) ووافقه الذهبي .»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح