بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جھوٹی بولی لگانا منع ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) خرید و فروخت کے مسائل جھوٹی بولی لگانا منع ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 507 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
243- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم نهى عن النجش.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجش (جھوٹی بولی لگانے) سے منع فرمایا ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 507]
تخریج الحدیث
«243- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 684/2 ح 1428، ك 31 ب 45 ح 97) التمهيد 347/13، الاستذكار:1350، و أخرجه البخاري (2142) ومسلم (1516/13) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 508 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
353- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”لا تلقوا الركبان للبيع، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، ولا تناجشوا، ولا يبع حاضر لباد، ولا تصروا الإبل والغنم، فمن ابتاعها بعد ذلك فهو بخير النظرين بعد أن يحلبها، إن رضيها أمسكها، وإن سخطها ردها وصاعا من تمر.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: باہر سے سودا لانے والوں کو سودا خریدنے کے لئے پہلے جا کر نہ ملو اور نہ تم میں سے کوئی آدمی دوسرے سودے پر سودا کرے اور (دھوکا دینے کے لئے جھوٹی) بولی نہ لگاو اور شہری دیہاتی کے لئے نہ بیچے اور اونٹنیوں اور بکریوں کے تھنوں میں (بیچنے کے لئے) دودھ نہ روکو، پھر اگر کوئی شخص اس کے بعد ایسا جانور خرید لے تو اسے دوھنے کے بعد دو میں سے ایک اختیار ہے: اگر اسے پسند ہو تو (سودا باقی رکھ کر) اس جانور کو اپنے پاس رکھ لے اور اگر ناپسند ہو تو اس جانور کو کھجوروں کے ایک صاع کے ساتھ واپس کر دے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 508]
تخریج الحدیث
«353- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 683/2، 684 ح 1428، ك 31 ب 45 ح 96) التمهيد 184/18، الاستذكار: 1349، وأخرجه البخاري (2150)، ومسلم (1515/11) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح